غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کے ایک انسانی حقوقی مرکز نے غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کی دوبارہ بحالی سے متعلق ابھرتے ہوئے انتظامی طریقہ کار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ یہ انتظامات قابض اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں، سکیورٹی شرائط اور تنظیمی رکاوٹوں کو نئی صورت میں دوبارہ نافذ کرنے کے مترادف ہیں جو آزادی نقل و حرکت کے بنیادی حق کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ اس میں سفر اور واپسی کا وہ حق بھی شامل ہے جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ایک مسلمہ اور ناقابل تنسیخ حق ہے اور جسے کسی سیاسی یا سکیورٹی جواز کے تحت من مانی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
مرکز غزہ برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو جاری بیان میں واضح کیا کہ سفر کے حق پر پابندی صرف انتہائی محدود دائرے میں اور ناگزیر ضرورت کے اصول کے تحت ہی لگائی جا سکتی ہے بشرطیکہ اس میں امتیاز یا اجتماعی سزا کا پہلو شامل نہ ہو۔
بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مریضوں اور زخمیوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہے اور انہیں علاج کے لیے غزہ پٹی سے باہر جانے کی اجازت دینا ایک فوری انسانی حق ہے جسے کسی بھی سکیورٹی بندوبست یا آنے جانے والوں کی تعداد سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
حقوقی مرکز نے خبردار کیا کہ سکیورٹی شرائط مسافروں کی تعداد پر قدغن یا آنے اور جانے والوں کے درمیان غیر مساوی فارمولے نافذ کرنے سے ہزاروں فلسطینی اپنے حق سفر سے محروم ہو جائیں گے اور رفح کراسنگ ایک انسانی شہری سہولت کے بجائے دباؤ اور آبادی کی ازسرنو تشکیل کا آلہ بن جائے گی جو جبری بے دخلی پر بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اسی تناظر میں مرکز نے شدید تشویش کے ساتھ ان انکشافات کی طرف توجہ دلائی جو ایک ریٹائرڈ قابض اسرائیلی جنرل نے کیے ہیں جو قابض فوج کو مشورے دیتا ہے۔ اس کے مطابق جنوبی غزہ میں بالخصوص رفح کے علاقے میں ایک وسیع کیمپ قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے جو سخت قابض اسرائیلی سکیورٹی نگرانی میں ہوگا اور جدید نگرانی اور چہرہ شناس ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا۔ اس کیمپ کو رفح کراسنگ کی محدود بحالی سے جوڑنے کی بات کی جا رہی ہے تاکہ مصر کے راستے غزہ چھوڑنے کے خواہش مند فلسطینیوں کو وہاں رکھا جائے یا انہیں عملی طور پر ایک نگرانی شدہ حصار میں مقید رکھا جائے۔
مرکز کے مطابق یہ تجاویز ان اطلاعات سے میل کھاتی ہیں جن میں قابض اسرائیل کی یہ کوشش سامنے آ رہی ہے کہ غزہ چھوڑنے والوں کی تعداد واپس آنے والوں سے زیادہ ہو۔ یہ طرز عمل ناقابل قبول جبری ھجرت کے ظالمانہ منصوبوں کا خطرناک تسلسل ہے اور رفح کراسنگ کو غزہ پٹی میں آبادی کے وجود کو ازسرنو ڈھالنے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ مرکز نے یاد دلایا کہ قابض اسرائیلی افواج دو برس سے زائد عرصے سے غزہ کو ناقابلِ رہائش بنانے میں مصروف ہیں جس میں منظم نسل کشی قتل عام وسیع پیمانے پر تباہی بھوک پیاس مسلط کرنا اور علاج سے محرومی جیسی سفاکانہ پالیسیاں شامل ہیں۔
مرکز غزہ برائے انسانی حقوق نے اس بات پر بھی خبردار کیا کہ رفح کراسنگ کی بندش یا مریضوں اور زخمیوں کے سفر پر عائد پابندیاں ان کی حالت کو خطرناک حد تک بگاڑ دیتی ہیں اور براہ راست ان کی جانوں کو لاحق خطرات میں اضافہ کرتی ہیں۔
مرکز نے بتایا کہ وزارت صحت کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق قریب بیس ہزار ایسے مریض ہیں جن کے طبی ریفرلز مکمل ہیں اور وہ بیرون ملک علاج کے لیے اجازت کے منتظر ہیں۔ یہ صورت حال ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت تخصصی طبی خدمات کی معطلی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی وسیع تباہی کے باعث مزید سنگین ہو چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چار سو چالیس کیسز ایسے ہیں جنہیں فوری جان بچانے کے زمرے میں رکھا گیا ہے جبکہ علاج کے لیے سفر کے انتظار میں بارہ سو اڑسٹھ مریض دم توڑ چکے ہیں۔ یہ تعداد بندش کی پالیسی کی بھاری انسانی قیمت کو عیاں کرتی ہے۔
مرکز نے توجہ دلائی کہ کینسر کے مریض سب سے زیادہ متاثرہ طبقوں میں شامل ہیں جہاں قریب چار ہزار مریض ہنگامی انتظار کی فہرستوں میں ہیں جبکہ غزہ میں ضروری تخصصی علاج اور تشخیصی سہولیات ناپید ہیں۔ اسی طرح ریفرل فہرستوں میں چار ہزار پانچ سو بچے بھی شامل ہیں جبکہ سات مئی سنہ 2024ء سے رفح کراسنگ کی بندش کے بعد صرف تین ہزار ایک سو مریض ہی غزہ سے باہر جا سکے ہیں۔
مرکز نے خبردار کیا کہ وزارت صحت کی جانب سے اس صورتحال کی سنگینی کی تصدیق کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ صحت کے میدان میں ناقابلِ پیش گوئی نتائج سامنے آئیں گے اور مریضوں کی اموات میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ بیرون ملک علاج کے لیے ریفرلز کی فہرستیں غیر معمولی حد تک طویل ہو جائیں گی کیونکہ اندرون غزہ کوئی حقیقی متبادل موجود نہیں۔
مرکز غزہ برائے انسانی حقوق نے غزہ سے سفر کرنے والوں کے ناموں کو قابض اسرائیلی حکام کی کسی بھی قسم کی سکیورٹی جانچ یا چھان بین سے مشروط کرنے کی سختی سے مخالفت کی۔ مرکز نے خبردار کیا کہ اس طریقہ کار کا نفاذ آزادی نقل و حرکت کے حق کی سنگین پامالی ہے اور سفر کو ایک ایسے استحقاق میں بدل دیتا ہے جو ایک قابض طاقت کی منظوری سے مشروط ہو جس کا شہری کراسنگز یا آبادی کی نقل و حرکت پر کوئی قانونی اختیار نہیں۔
مرکز نے متنبہ کیا کہ اس عمل کے نتیجے میں دسیوں ہزار فلسطینی عملاً حق سفر سے محروم ہو جائیں گے اور ہزاروں دیگر گرفتاری حراست یا جبری گمشدگی کے خوف سے سفر ترک کرنے پر مجبور ہوں گے جن میں مریض زخمی اور جان بچانے کے ہنگامی کیسز بھی شامل ہیں۔ یہ طرز عمل سکیورٹی اقدامات کو اجتماعی سزا اور سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے مترادف ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے ان اصولوں سے صریح متصادم ہے جو امتیاز اور بالواسطہ طور پر حق زندگی کو خطرے میں ڈالنے سے روکتے ہیں۔
ان حقائق کی بنیاد پر مرکز نے زور دیا کہ رفح کراسنگ کو مکمل اور باقاعدہ طور پر کھولا جائے اور مسافروں بالخصوص مریضوں اور زخمیوں کے خروج کو کسی من مانی شرط کے بغیر ممکن بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ طبی امداد ادویات اور بنیادی ضروریات کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنانا غزہ کے ہزاروں مریضوں کے لیے بچا ہوا آخری سہارا ہے۔
مرکز نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ کراسنگ کے انتظامات مکمل طور پر شہری اور انسانی نوعیت کے ہوں اور انہیں قابض اسرائیل کی پالیسیوں اور سکیورٹی یا آبادیاتی اہداف سے مکمل طور پر الگ رکھا جائے تاکہ عوام کے بنیادی حقوق بالخصوص حق زندگی عزت اور آزادی نقل و حرکت کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
