Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

انروا کے مطابق شمال مغربی کنارے کے کیمپوں سے 33 ہزار فلسطینی بے گھر

مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ادارے انروا کے میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ طولکرم، جنین اور نور شمس کے کیمپوں سے بے گھر کیے گئے دسیوں ہزار فلسطینی پناہ گزین آج اپنی زندگی کے بدترین مراحل میں سے ایک سے گزر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب قابض اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے کے شہروں پر 21 جنوری سنہ 2025ء کو نام نہاد آہنی دیوار کے تحت فوجی جارحیت شروع کی۔

انروا کے میڈیا آفس کی رکن عبیر اسماعیل نے وضاحت کی کہ انروا میں رجسٹرڈ 33 ہزار فلسطینی ان تینوں کیمپوں سے جبری طور پر بے دخل کیے گئے۔ انہیں اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور اب وہ غیر مستحکم حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ کرائے کے گھروں میں مقیم ہیں کچھ رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ متعدد ایسے مقامات پر رہ رہے ہیں جہاں محفوظ رہائش کی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں۔

انہوں نے الجزیرہ ڈاٹ نیٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے تناظر میں بتایا کہ ان بے گھر افراد کی اکثریت مکمل طور پر اپنے ذرائع آمدن سے محروم ہو چکی ہے۔ بہت سے لوگوں نے جنگ کے آغاز ہی میں اپنی ملازمتیں کھو دیں خاص طور پر طولکرم شہر کے کیمپوں میں جہاں جنگ سے پہلے 80 سے 90 فیصد آبادی قابض اسرائیل کے اندر کام کرتی تھی۔ آج یہ خاندان کرایہ ادا کرنے یا اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

انروا کی اس عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ زیادہ تر بے گھر افراد کسی منظم کیمپ یا تیار شدہ پناہ گاہوں میں نہیں رہ رہے بلکہ کیمپوں کے گرد و نواح کی دیہات اور بلدات مثلاً اکتابا، عنبتا، قباطیہ اور دیگر علاقوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ رہائشی حالات بالخصوص بزرگوں، مریضوں اور معذور افراد کے لیے انتہائی ناموزوں ہیں۔

عبیر اسماعیل کے مطابق ان بے گھر افراد میں تقریباً 12 ہزار بچے شامل ہیں جن میں 4500 طلبہ ایسے ہیں جنہیں تعلیم کے تسلسل میں طویل تعطل اور بے ترتیبی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں عارضی حل کے ذریعے انہیں جزوی طور پر دوبارہ تعلیم تک رسائی مل سکی۔

انہوں نے بتایا کہ ان طلبہ کو عدم استحکام اور عدم تحفظ کے شدید احساس کا سامنا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں تعلیم کسی صورت سکول کی معمول کی زندگی جیسی نہیں بلکہ یہ ایک گہری نفسیاتی اور سماجی اذیت کے سائے میں جاری ہے جس سے بچے دوچار ہیں۔

اسماعیل نے کہا کہ طولکرم کیمپ کے اطراف انروا کے سکولوں کی گذشتہ ماہ جزوی بحالی نے طلبہ میں کسی حد تک استحکام کا احساس واپس لوٹایا۔ ان کے بقول طلبہ کی خوشی کا اندازہ لگانا مشکل ہے جو طویل اضطراب کے بعد دوبارہ اپنے کلاس رومز میں واپس آئے۔

بے گھر افراد میں 400 ایسے افراد بھی شامل ہیں جن میں سے کچھ پہلے ہی معذوری کا شکار تھے جبکہ دیگر قابض اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران زخمی ہو کر معذور ہو گئے۔ عبیر اسماعیل نے ان کی انسانی حالت کو انتہائی نازک قرار دیا کیونکہ غیر مناسب رہائش، صحت کی سہولتوں تک مشکل رسائی اور نجی زندگی کے فقدان نے ان کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انروا پہلے ان تینوں کیمپوں کے اندر تین طبی مراکز چلاتی تھی تاہم اب انہیں جنین اور نور شمس اور طولکرم کے گرد و نواح میں 11 عارضی صحت پوائنٹس سے تبدیل کیا گیا ہے تاکہ بے گھر پناہ گزینوں کو بنیادی طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔

قابض اسرائیلی فوج کے سخت محاصرے اور سنائپرز کی موجودگی کے باعث عبیر اسماعیل نے کہا کہ آج کوئی بھی شخص ان کیمپوں میں داخل نہیں ہو سکتا۔ انروا اپنی معلومات اقوام متحدہ کے شراکت دار اداروں مثلاً انسانی امور کے رابطہ دفتر اوچا کی رپورٹس پر انحصار کرتی ہے جن کے مطابق جنین کیمپ میں تباہی کی شرح تقریباً 52 فیصد، نور شمس میں 48 فیصد اور طولکرم کیمپ میں 36 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی ہر کیمپ کا تقریباً نصف حصہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکا ہے جس میں شہری گھروں اور عوامی تنصیبات کی وسیع پیمانے پر بربادی شامل ہے۔

انروا کی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ ادارے کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد موجودہ بے گھری کے حجم کے مقابلے میں ناکافی ہے کیونکہ مالی وسائل انتہائی محدود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انروا فلسطینی اتھارٹی اور مقامی و بین الاقوامی امدادی اداروں کے ساتھ شراکت میں کام کر رہی ہے۔

عبیر اسماعیل نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ بے گھر افراد کی تکالیف میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ نہ کوئی سیاسی حل سامنے آ رہا ہے اور نہ ہی زمینی سطح پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے آثار ہیں۔ ان کے مطابق اس بحران کا واحد حقیقی حل یہ ہے کہ فوجی یلغار اور تباہی کا سلسلہ بند ہو، لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹیں اور سنجیدہ بنیادوں پر تعمیر نو کا عمل شروع کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انروا کو درپیش مالی بحران اور تقریباً 200 ملین ڈالر کے تخمینے کے مطابق خسارے کے باوجود جو خدمات میں کمی کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، ادارے کا موجودہ منصوبہ بے گھر افراد کی امداد جاری رکھنے اور ان کی حالت کو مزید بگڑنے سے روکنے پر مرکوز ہے۔

فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیلی افواج نے جنین کیمپ کے اندر تقریباً 300 رہائشی عمارتوں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا اور کیمپ اور اس کے اطراف سے تقریباً 22 ہزار شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔ اسی طرح طولکرم شہر اور اس کے دو کیمپوں طولکرم اور نور شمس پر جارحیت کے نتیجے میں سینکڑوں رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوئیں جبکہ ہزاروں عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا اور 25 ہزار سے زائد شہری بے گھر کر دیے گئے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan