مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی مہاجرین کے حقوق کے دفاع کے لیے سرگرم 302 باڈی نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع انروا کے زیر انتظام قلندیا پیشہ ورانہ تربیتی انسٹی ٹیوٹ کی بجلی منقطع کر دی ہے۔ یہ ادارہ قلندیا کیمپ کے قریب قائم ہے اور اس اقدام کو انسٹی ٹیوٹ کو بند کرنے کی تمہید قرار دیا جا رہا ہے۔
باڈی نے ایک پریس بیان میں واضح کیا کہ یہ قدم اسی طرز کی کارروائیوں کا تسلسل ہے جیسی قبل ازیں مقبوضہ بیت المقدس کے محلہ شیخ جراح میں انروا کے مرکزی دفتر پر دھاوا بول کر اس کی ضبطی کے دوران دیکھنے میں آئی تھیں۔ بیان میں بتایا گیا کہ قلندیا انسٹی ٹیوٹ سنہ 1953ء میں 86 دونم رقبے پر قائم کیا گیا تھا اور اب تک اس سے فلسطینی مہاجرین کے بیس ہزار سے زائد طلبہ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔
بیان کے مطابق تعلیمی سال 2025–2026 کے دوران انسٹی ٹیوٹ میں تقریباً 325 طلبہ زیر تعلیم ہیں جو سولہ مختلف پیشہ ورانہ اور تکنیکی شعبوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا کہ اس انسٹی ٹیوٹ کو نشانہ بنانا مشرقی القدس میں انروا کی موجودگی کے خاتمے کی منظم کوششوں کا حصہ ہے کیونکہ انروا فلسطینی مہاجرین کے قضیے سے جڑی سیاسی قانونی اور انسانی اہمیت کی حامل ہے۔ باڈی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے انسٹی ٹیوٹ کی اراضی کی ملکیت کے دعوے بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں۔
باڈی نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کی تاکہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈال کر ان اقدامات کو روکا جا سکے جو انروا کے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ان اقوامی معاہدات کے احترام پر زور دیا گیا جو اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے کام کو منظم کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں القدس گورنری نے بتایا کہ منگل کی صبح سنہ 20 جنوری جاری کو قابض اسرائیلی فوج کی ایک بڑی نفری فوجی بلڈوزروں کے ہمراہ محلہ شیخ جراح میں واقع انروا کمپلیکس میں داخل ہوئی۔ فورسز نے اطراف کی سڑکوں کو گھیرے میں لے لیا اور کمپلیکس کے اندر قائم دفاتر اور عارضی تنصیبات کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ القدس گورنری کے مطابق کمپلیکس کے اندر قابض اسرائیلی پرچم لہرانا ایک اقوامی ادارے پر طاقت کے ذریعے کنٹرول مسلط کرنے کی کھلی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔
