غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں وزارت صحت کے حکام نے انسانی اور صحت کے بحران کے مزید سنگین ہونے سے خبردار کیا ہے، جہاں گردن توڑ بخار کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت برقرار ہے۔
خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے بچوں کے ہسپتال کے ڈائریکٹر احمد الفرا نے بتایا کہ ہسپتال میں گذشتہ دو دن کے دوران اس مرض کے 9 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں کمسن بچی ایلن عصفور کا کیس بھی شامل ہے جو صحت کی حالت بگڑنے کے بعد جانبر نہ ہو سکی۔
احمد الفرا نے خبردار کیا کہ بے گھر فلسطینیوں کے خیموں میں شدید گنجان آبادی اور ناقص صحت کے حالات بیماری کے تیز پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں، جو وباؤں کے پھوٹنے کے لیے نہایت خطرناک ماحول فراہم کر رہے ہیں۔
گردن توڑ بخار ایک نہایت سنگین بیماری ہے جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو گھیرنے والی تین جھلیوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ عموماً وائرل یا بیکٹیریا کے انفیکشن خصوصاً مینینگوکوکل بیکٹیریا کے باعث لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک ہنگامی بیماری ہے جو چند گھنٹوں میں موت یا مستقل معذوری جیسے بہرا پن یا دماغی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کی نمایاں علامات میں شدید سر درد، تیز بخار اور گردن کا اکڑاؤ شامل ہیں۔
ادھر غزہ میں رنتیسی بچوں کے ہسپتال کے ڈائریکٹر جمیل سلیمان نے کہا کہ جنوبی غزہ میں گردن توڑ بخار کے کیسز کا سامنے آنا اس بات کا خطرناک اشارہ ہے کہ بیماری شمالی علاقوں تک پھیل سکتی ہے، جہاں صحت کا نظام پہلے ہی بدترین حالت میں ہے اور طبی حالات انتہائی نازک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیماری کی تیز رفتار نوعیت اور گنجان آبادی والے علاقوں میں اس کے پھیلاؤ کی صلاحیت، جبری بے دخلی اور مسلسل نقل مکانی کے ساتھ مل کر، کسی بھی ایک متاثرہ مقام کو پورے غزہ کے لیے براہ راست خطرہ بنا دیتی ہے۔
جمیل سلیمان نے نشاندہی کی کہ صحت کا نظام شدید وسائل کی کمی، طبی عملے کی قلت اور ضروری سامان کی عدم دستیابی کا شکار ہے، جس کے باعث ہسپتال کسی ممکنہ وبائی پھیلاؤ سے نمٹنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ لیبارٹری ٹیسٹوں اور گردن توڑ بخار کے علاج کے لیے درکار ادویات کی عدم موجودگی صورتحال کو قابو سے باہر کر سکتی ہے، اور اس معاملے کو فوری صحت ہنگامی حالت کے طور پر لینے کی اپیل کی۔
اسی تناظر میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے غزہ کی صحت کی صورتحال کو نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد بدترین مرحلہ قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 70 فیصد سے زائد ادویات ختم ہو چکی ہیں، جن میں جان بچانے والی دوائیں بھی شامل ہیں، جو سخت محاصرے اور طبی سامان کی ترسیل پر پابندی کا نتیجہ ہے۔
محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ ہسپتال انتہائی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جبکہ وباؤں اور موسمی وائرسز کے پھیلاؤ کے باعث مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان بیماریوں کے باعث گذشتہ دنوں بچوں اور بزرگوں کی اموات بھی ہو چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طبی عملہ براہ راست نشانہ بنائے جانے کے باوجود اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ ان کے مطابق صحت کے شعبے سے وابستہ تقریباً 1600 کارکن شہید ہو چکے ہیں اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا، تاہم اپنے عوام کے لیے انسانی فریضے کا احساس انہیں ڈٹے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
محمد ابو سلمیہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دباؤ ڈالے تاکہ ادویات اور طبی سامان غزہ میں داخل ہو سکے، اور خبردار کیا کہ اگر کراسنگز نہ کھولی گئیں تو مزید ایسے قیمتی جانیں ضائع ہوں گی جنہیں بچایا جا سکتا تھا۔
فی الوقت غزہ میں صحت کا شعبہ صرف 16 ہسپتالوں کے ذریعے محدود صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے، جبکہ 22 ہسپتال تباہی کے باعث مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے 103 مراکز بھی تباہ کر دیے گئے، جس سے لاکھوں فلسطینی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔
ایمبولینس سسٹم کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جہاں 211 ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور 35 میں سے 25 آکسیجن پیدا کرنے والے اسٹیشن تباہ کر دیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ خون کے مختلف گروپس کا ذخیرہ 90 فیصد تک کم ہو چکا ہے، جو ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں زیر علاج زخمیوں اور مریضوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
