پیرس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان پاسکل کونفافرو نے اعلان کیا کہ غزہ کے لیے بڑی مقدار میں انسانی امداد روانہ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ یہ امداد فوری طور پر مقامی عوام تک پہنچنی چاہیے، کیونکہ غزہ میں انسانی حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں۔
کونفافرو نے الجزیرہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ کی صورتحال انتہائی مشکل ہے اور فرانس کے پاس معلومات ہیں کہ ’رفح کراسنگ‘ اگلے ایک یا دو دن میں کھل سکتا ہے، جس سے انسانی امداد کی ترسیل اور افراد کا آمد و رفت ممکن ہو سکے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’رفح کراسنگ‘ کا کھلنا موجودہ سمجھوتوں کا اہم حصہ ہے اور فرانس اس معاملے کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے کیونکہ یہ غزہ کے عوام کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے، چاہے امدادی و طبی سامان کی ترسیل ہو یا مریضوں اور زخمیوں کا علاج کے لیے سفر ممکن بنانا ہو۔
اسی تناظر میں فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ ایک ایسی فورس کی موجودگی ضروری ہے جو غزہ میں استحکام قائم کرے، فلسطینی پولیس کی کارکردگی کی مدد کرے، تاکہ عام نظم و نسق برقرار رہے اور انسانی امداد مستحقین تک پہنچ سکے۔
یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں مہینوں سے انسانی حالات سنگین ہیں، جو قابض اسرائیلی جارحیت اور سخت محاصرے کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں، جس نے بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر تباہ کر دیا اور صحت و خدمات کے شعبوں کو تقریباً مفلوج کر دیا۔
ہسپتالوں میں ادویات، طبی سازوسامان اور ایندھن کی شدید کمی ہے، جبکہ طبی عملہ سخت حالات میں کام کر رہا ہے، زخمیوں اور مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
دسیوں ہزار بے گھر افراد امدادی مراکز اور خیموں میں مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، کھانے اور پینے کے پانی کی کمی کے ساتھ، حرارت کے وسائل نہ ہونے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے درمیان، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں۔
کراسنگ کے بند ہونے اور بنیادی اشیا کی ترسیل کی روک تھام انسانی بحران کو مزید شدید بنا رہی ہے، اور امدادی سامان کی بیرونِ علاقے سے آمد میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے قابض اسرائیل کی فوج غزہ میں نسل کشی کے جرائم کر رہی ہے، جس میں قتل، بھوک، تباہی اور بے دخلی شامل ہیں۔ صہیونی دشمن بین الاقوامی اپیلوں اور عالمی عدالت کے احکامات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اس نسل کشی کے نتیجے میں دو لاکھ 43 ہزار سے زائد فلسطینی شہید و زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں، علاوہ ازیں گیارہ ہزار سے زائد لاپتہ، سینکڑوں ہزاروں بے گھر اور بھوک کے باعث متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ غزہ کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔