مقبوضہ القدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے فوجیوں میں ایک اور خودکشی کا واقعہ پیش آیا، جب ایک لازمی سروس ادا کرنے والا فوجی افسر جنوبی مقبوضہ فلسطین میں واقع فوجی اڈے کے اندر اپنی زندگی کا خاتمہ کر گیا۔
عبرانی اخبار ’ہارٹز ‘کے مطابق قابض اسرائیل کی فوج نے جاری بیان میں بتایا کہ یہ فوجی پیر کے روز فوجی اڈے میں اپنی جان لے بیٹھا، تاہم اس کی شناخت یا واقعے کے پسِ منظر سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض اسرائیل کی فوج کی ملٹری پولیس نے اس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن کے نتائج بعد میں فوجی پراسیکیوٹر کے دفتر کو بھیجے جائیں گے۔
اخبار کے مطابق سنہ 2025 میں لازمی سروس انجام دینے والے فوجیوں کے درمیان 22 خودکشیوں کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو پچھلے پندرہ برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اس سے قبل کے اسرائیلی رپورٹس میں کہا گیا کہ خودکشی کے واقعات میں اضافہ قابض اسرائیل کی فوج کی غزہ پر دو سالہ جارحیت کے بعد پیدا ہونے والے شدید نفسیاتی اثرات سے جڑا ہوا ہے، جس میں حصہ لینے والے فوجیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے قابض اسرائیلی فوج نے امریکہ اور یورپی حمایت کے ساتھ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کارروائیاں کیں، جس میں دو لاکھ43 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تعداد بچے اور خواتین کی تھی، علاوہ ازیں 11 ہزار سے زائد لاپتہ اور لاکھوں بے گھر ہوئے، جبکہ غزہ کے بیشتر علاقوں میں وسیع تباہی ہوئی۔
جب سے 10 اکتوبر سنہ 2023ء سے سیز فائر شروع ہوا ہے، قابض اسرائیلی فوج روزانہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں 486 فلسطینی شہید اور 1341 زخمی ہوئے ہیں، جیسا کہ غزہ میں وزارت صحت نے اطلاع دی ہے۔
