Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کے ہزاروں مریض رفح کراسنگ کھلنے کے انتظار میں

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین کے وزارت صحت نے بتایا ہے کہ غزہ میں 20 ہزار سے زائد فلسطینی مریض علاج کے لیے بیرون ملک سفر کی اجازت کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ رفح کراسنگ کے مسلسل بند رہنے سے ان کی زندگیاں براہِ راست خطرے میں ہیں۔

وزارت صحت نے بیان میں مزید کہا کہ ان مریضوں میں 440 ایسے ہیں جنہیں “زندگی بچانے” کے لیے فوری علاج درکار ہے، جبکہ علاج کے لیے بیرون ملک بھیجے جانے کے منتظر بچوں کی تعداد تقریباً 4,500 ہے۔

وزارت صحت نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے جنوبی غزہ میں رفح کراسنگ کی بند ش مریضوں اور زخمیوں کی طبی حالت کو خطرناک سطح تک پہنچا چکی ہے، کیونکہ ادویات اور طبی وسائل کی شدید کمی، اور زیادہ تر تخصصی خدمات کی بندش کے ساتھ ہسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اس بحران کو اور بڑھا رہی ہے۔

وزارت صحت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حالات بیرون ملک علاج کے لیے انتظار کی فہرستوں میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں، جبکہ صحت کا نظام انتہائی مشکلات کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں طبی خدمات اکثر صرف ہنگامی اور زندگی بچانے والے معاملات تک محدود ہو گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ 1,268 مریض ایسے ہیں جو علاج کے لیے سفر کی اجازت کا انتظار کرتے ہوئے انتقال کر گئے اور سب سے زیادہ متاثر سرطان کے مریض ہیں، جن کی تعداد تقریبا 4,000 ہے جو علاج کے انتظار میں ہیں۔

وزارت صحت نے مزید بتایا کہ رفح کراسنگ بند ہونے کے بعد سات مئی سنہ 2024ء سے صرف 3,100 مریض ہی غزہ سے باہر جا سکے اور یہ واضح نہیں کہ یہ مریض کس طریقے سے باہر گئے۔

قابض اسرائیل نے رفح کراسنگ سنہ 2024ء میں اسرائیلی فوج کے قبضےکے بعد بند کر دی تھی ۔

وزارت صحت نے خبردار کیا کہ اس انسانی بحران کے اثرات غیر متوقع اور خطرناک ہو سکتے ہیں، جو اموات میں اضافے اور بیرون ملک علاج کے لیے مریضوں کی فہرستوں میں مسلسل اضافہ کر سکتے ہیں، اور واضح کیا کہ معبر کا فوری کھلنا اور مریضوں و زخمیوں کی روانگی کے ساتھ طبی امداد کی رسائی ہزاروں مریضوں کے لیے آخری سہارا ہے۔

اسی سلسلے میں قابض اسرائیل کی حکومت کے دفتر نے گذشتہ اتوار کو اعلان کیا کہ اسرائیل نے رفح کراسنگ کھولنے کی اجازت دے دی ہے، بعد ازاں قابض فوج نے گذشتہ پیر کو شمالی غزہ میں سینکڑوں لاشوں کی تفتیش کے بعد ران گویلی کے کلب برائے اسیران کی باقیات دریافت کیں۔

گذشتہ میں غزہ کی نیشنل ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے کہا تھا کہ معبر اگلے ہفتے کھل جائے گا، تاہم کسی واضح طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی گئی۔

رفح کراسنگ کو سنہ 2023ء کے 7 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تحت کھولنا تھا، لیکن قابض اسرائیل نے اس پر عمل نہیں کیا اور کھولنے کو کلب برائے اسیران ران گویلی کی باقیات سے مشروط کر دیا۔

یہ صورتحال اس اسرائیلی جنگ کی بدترین انسانی قیمت کو ظاہر کرتی ہے، جو سنہ 2023ء کے 7 اکتوبر سے جاری ہے، جس میں 71 ہزار سے زائد شہداء اور 171 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، اور 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہی پہنچ چکی ہے، جس کی تعمیر نو کا تخمینہ اقوام متحدہ نے 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan