پشاور (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) خیبرپختونخوا اسمبلی نے پاکستان کی امریکی قیادت والے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے خلاف قرارداد منظور کر لی۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی نے یہ قرارداد اسمبلی میں پیش کی، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی شرکت یکسر مسترد کی جاتی ہے اور یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور شدہ قرارداد کے منافی ہے۔
قرارداد میں بیان کیا گیا کہ بورڈ آف پیس میں فلسطین اور غزہ کی قیادت کو نظر انداز کیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطین اور غزہ کی خود ارادیت، آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کے حق کو پس پشت ڈال کر اسرائیل کے مذموم عزائم کو تقویت دی جا رہی ہے۔ امریکہ کی سربراہی میں قائم یہ بورڈ، جو اسرائیل کے مظالم کی حمایت کرتا رہا ہے، اصل میں امن بورڈ نہیں بلکہ ایک طاقتور بورڈ (Board of Power) کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جس کا ایجنڈا فلسطین اور غزہ کی مزید تباہی ہے۔
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ بورڈ سب-کمیٹی بھی تشکیل دے سکتا ہے اور پاکستان کی اس میں شرکت سے خطرہ ہے کہ اسرائیل کی سربراہی میں اس میں پاکستان کو شامل کر کے عالمی سطح پر جگ ہنسائی کی جا سکتی ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین اور غزہ کی خود مختاری، آزادی اور حقوق کی بھرپور حمایت جاری رکھے اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف دو ٹوک اور اصولی موقف اختیار کرے، اور کسی بھی ایسی مہم یا عالمی فورم میں حصہ نہ لے جو فلسطینی عوام کے اصولی موقف کے منافی ہو۔
قرارداد میں پاکستان کے اصولی موقف کو بھی دہراتے ہوئے کہا گیا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دیا اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور مظلوم کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنایا۔