غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) منگل کی صبح قابض اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں چار فلسطینی شہری شہید اور دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ واقعات غزہ پٹی میں قابض فوج کی جانب سے زمینی خلاف ورزیوں کے تسلسل کے دوران پیش آئے جن میں براہ راست قتل ،بچوں کو نشانہ بنانا اور مختلف علاقوں میں زمینی اور فضائی جارحیت شامل ہے۔ یہ سیز فائر معاہدے کے 108ویں دن کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق غزہ شہر کے مشرق میں التفاح محلے کے بطش قبرستان کے قریب قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے چار شہری شہید اور تین زخمی ہوئے۔ شہدا کے نام محمود احمد لولو عبد القادر ابو خضر عبد الکریم غباین اور یوسف الریفی ہیں۔
گزشتہ روز پیر کو بھی غزہ پٹی میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے تین فلسطینی شہری شہید ہوئے تھے۔
یہ مسلسل خلاف ورزیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب سیز فائر معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ قتل بمباری اور تباہی کا یہ تسلسل معاہدے کو اس کے حقیقی مفہوم سے خالی کر رہا ہے اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے بجائے سزا سے بچ نکلنے کی پالیسی کو تقویت دے رہا ہے۔
سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے بعد سے قابض اسرائیلی افواج کی بار بار خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 504 فلسطینی شہید اور 1331 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ معاہدہ ایک ایسی نسل کش جنگ کے خاتمے کا باعث بنا جو سنہ 8 اکتوبر 2023ء کو شروع ہوئی اور دو برس تک جاری رہی۔ اس دوران 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 171 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے جب کہ شہری بنیادی ڈھانچے کا تقریباً 90 فیصد تباہ ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
