غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں سینکڑوں قبروں کی کھدائی جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں طبی ماہرین اور ماہرین فرانزک کی ٹیمیں بھی شریک ہیں۔ یہ کارروائی اسرائیلی قیدی ران گویلی کی لاش کی تلاش کے لیے کی جا رہی ہے، جبکہ فوجی اندازوں کے مطابق امکان ہے کہ وہ الشجاعیہ کے کسی قبرستان میں دفن ہے۔ یہ مقام ” یلو لائن” کے مشرق میں واقع ہے جس پر قابض صہیونی فوج کا غاصبانہ تسلط قائم ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ بڑی تعداد میں فوجی تلاش میں شریک ہیں اور “سنّی اسکین” کی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ دانتوں کے ذریعے لاش کی شناخت کی جا سکے۔ فوج نے علاقے کے ارد گرد مکمل نگرانی کا بھی اعلان کیا۔
قابض اسرائیلی فوجی ریڈیو نے پیر کی صبح بتایا کہ اب تک 200 سے زائد قبریں کھودی جا چکی ہیں اور فوج نے ٹیموں کے لیے نفسیاتی مدد اور طبی معاونت فراہم کرنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔
اسرائیلی ویب سائٹ “ہیوم” کے مطابق قابض اسرائیل نے فرانزک ٹیموں میں خواتین دانتوں کے ماہرین کو شامل کیا تاکہ گویلی کی لاش کی شناخت کا عمل تیز کیا جا سکے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ اقدام شناخت کی درستگی بڑھانے کے لیے ہے، خاص طور پر ان پیچیدہ حالات میں جہاں دیگر ذرائع استعمال کرنا مشکل ہو۔
دانتوں کے ماہرین کے ساتھ مل کر ہر لاش کی شناخت ،دانتوں کے شواہد کی بنیاد پر کر رہی ہیں، جو سب سے زیادہ معتبر اور درست طریقہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ان حالات میں جب دیگر ذرائع قابل اعتماد نہیں ہوتے۔
عبرانی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں فوجی علاقوں کے قریب کی جا رہی ہیں اور تمام ٹیمیں حفاظتی اقدامات اور فوجی و سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کر رہی ہیں۔
قابض اسرائیل کی حکومت نے بتایا کہ دانتوں کے ماہرین کی شمولیت اب معمول کا عمل نہیں، بلکہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد یہ ایک اہم آلہ بن گیا ہے تاکہ فوری اور جدید طریقے سے ہلاک شدگان کی شناخت ممکن ہو سکے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حالیہ دنوں میں کچھ “مسلح افراد” کو گرفتار کیا گیا اور تفتیش میں ان سے کچھ معلومات حاصل کی گئیں۔ اسرائیلی اندازوں کے مطابق گویلی کی تدفین مزاحمتی عناصر نے ابتدائی ہفتوں میں کی تھی۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ “یہ یقینی نہیں کہ اسلامی جہاد کے عناصر کو حقیقی وقت میں معلوم تھا کہ وہ ایک اسرائیلی فوجی دفن کر رہے ہیں۔” یہ کارروائی پہلے بھی کئی بار مؤخر ہوئی تھی کیونکہ سیاسی سطح پر کچھ پابندیاں تھیں۔
قابض اسرائیل نے الشجاعیہ کے قبرستان کو مختلف چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ ہر ٹیم اپنے حصے پر مرکوز ہو، جس میں دانتوں کے ماہرین اور فوجی روحانی افراد شامل ہیں۔
تمام ٹیمیں متوازی طور پر کام کر رہی ہیں تاکہ کارروائی چند گھنٹوں میں مکمل ہو۔ اگر اسیر کی لاش ان قبروں میں نہیں ملی جس کی تلاش ہو رہی ہے تو پوری قبرستان کی کھدائی کی جائے گی، جس میں سینکڑوں قبریں شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ اقدام ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو فوری طور پر شواہد فراہم کرنے کے لیے ہے، چاہے میدان کی صورت حال مشکل ہو اور معلومات محدود ہوں۔
قابض اسرائیل نے 10 اکتوبر سنہ 2025ء کے اعلان کے بعد سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی ہے، جس میں فضائی اور توپ خانے سے حملے اور مختلف علاقوں میں فائرنگ شامل ہے، جس کے نتیجے میں مہاجرین میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ یہ اقدامات پچھلی جنگ بندی معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔
اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 483 فلسطینی شہید اور 1313 زخمی ہوئے۔ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری قابض اسرائیلی نسل کشی کی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 71,654 شہداء اور 171,391 زخمی ہوئے۔
