غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں بکھرا ہوا ملبہ اب صرف ایک تباہ کن جنگ کی خاموش تصویر نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو ہر لمحہ فلسطینیوں کے زخموں کو تازہ کرتی ہے۔ قابض اسرائیل کی مسلسل اور سفاک بمباری نے پورے علاقے کو کھنڈرات میں بدل دیا ہے جہاں ٹوٹے ہوئے گھروں، گری ہوئی دیواروں اور جلی ہوئی یادوں کے درمیان انسان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہی ملبہ آج ہزاروں فلسطینی خاندانوں کے لیے روزگار کا واحد ذریعہ بن چکا ہے، ایسا ذریعہ جو ہر قدم پر موت کو دعوت دیتا ہے۔
تباہی کے ہولناک اعداد و شمار
حالیہ اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں ہر مربع میٹر پر اوسطاً ایک سو انہتر کلوگرام ملبہ جمع ہو چکا ہے۔ یہ اعداد اس وسیع تباہی کی نشاندہی کرتے ہیں جس نے تقریباً ایک لاکھ ترانوے ہزار عمارتوں کو مکمل یا جزوی طور پر زمین بوس کر دیا۔ شہر، محلّے اور گلیاں ایسے قبرستان نما صورت اختیار کر چکی ہیں جہاں زندگی کی رمق تلاش کرنا بھی ایک آزمائش بن گیا ہے۔
ستر ملین ٹن ملبہ، ایک نہ ختم ہونے والا بحران
سرکاری تخمینوں کے مطابق غزہ میں ملبے کی مقدار پینسٹھ سے ستر ملین ٹن کے درمیان پہنچ چکی ہے اور یہ ہر دن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس ملبے کو ہٹانا صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا انسانی اور ماحولیاتی بحران ہے۔ اس کے پیچھے وہ کہانیاں دفن ہیں جن میں مزدور، ہنرمند اور جامعات کے طلبہ شامل ہیں جو کبھی باعزت روزگار رکھتے تھے اور آج اپنے ہی گھروں کے کھنڈرات میں رزق ڈھونڈنے پر مجبور ہیں۔
ایک باپ کی بے بسی
ابو خالد طومان اس وقت بیالیس برس کے پیٹے میں ہیں۔ وہ شمالی غزہ کے رہائشی اور پانچ بچوں کے والد ہیں۔ ان کی آواز میں تھکن اور آنکھوں میں نمی جھلکتی ہے۔اپنی زبوں حالی بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن ان کا کام ملبے میں لوہا، تانبہ اور بجلی کی جلی ہوئی تاریں تلاش کرنا ہوگا۔ وہ بتاتے ہیں کہ کبھی ان کی ایلومینیم کی ورکشاپ تھی، آج وہ پتھروں کا ڈھیر بن چکی ہے۔ ابو خالد فجر کے وقت سادہ اوزار اٹھا کر نکلتے ہیں اور غروبِ آفتاب پر واپس آتے ہیں جب بمشکل اتنی کمائی ہو پاتی ہے کہ بچوں کے لیے روٹی خرید سکیں۔
ہر لمحہ منڈلاتی موت
ان نوجوانوں کو کام کے دوران ہر طرف سے خطرات لاحق ہیں۔ اچانک گرنے والے ڈھانچے، ناکارہ گولہ بارود، زہریلی گرد اور کسی بھی قسم کے حفاظتی سامان کی عدم موجودگی۔ نہ ہیلمٹ، نہ دستانے اور نہ ہی قریبی امدادی ٹیمیں۔ اس کے باوجود وہ رک نہیں سکتے کیونکہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔
خوابوں کی راکھ
محمد العمصی ابلاغ عامہ کے گریجویٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جنگ نے ان سے ان کے خواب بھی چھین لیے اور ان کا گھر بھی۔ وہ افسردہ لہجے میں بتاتے ہیں کہ کبھی وہ اپنے شعبے میں کام کرنے کا خواب دیکھتے تھے، آج وہ دن کو کلوگرام میں ناپتے ہیں کہ کتنا لوہا ملا اور کتنے شیکل حاصل ہوئے۔ کئی دن ایسے بھی ہوتے ہیں جب کچھ ہاتھ نہیں آتا مگر کام چھوڑنا ممکن نہیں کیونکہ بھوک ملبے سے زیادہ بے رحم ہے۔
جسم سے آگے زخم
یہ خطرہ صرف جسمانی نہیں بلکہ گہرا نفسیاتی بھی ہے۔ گھروں کے کھنڈرات میں کام کرنا بمباری، چیخوں اور جدائی کی یادیں تازہ کر دیتا ہے۔ پینتیس برس کے سلیم مہنا دو بچوں کے والد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی بچوں کے کھلونے، کاپیاں اور خاندانی تصاویر مل جاتی ہیں۔ اس لمحے ملبہ پتھر سے زیادہ بھاری محسوس ہوتا ہے اور دل پر ایک اور زخم لگ جاتا ہے۔
ملبہ جو مقدر بن گیا
ملبے کے انتظام یا متبادل روزگار کے کسی جامع منصوبے کی عدم موجودگی میں یہ غیر منظم مشقت ایک مسلط شدہ حقیقت بن چکی ہے۔ یہ غزہ کی پٹی کی معاشی اور سماجی نازک حالت کی عکاس ہے جہاں تباہی صرف ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔
زندگی کی ضد
ان تمام حالات کے باوجود یہ فلسطینی نوجوان خود کو ہیرو کہتے ہیں نہ محض مظلوم۔ وہ خود کو باپ اور بھائی سمجھتے ہیں جو زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ابو خالد ایک نئے دن کے لیے تیار ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ملبے سے تعمیر نہیں کر رہے بلکہ صرف جینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی جملہ غزہ کی پوری داستان بن چکا ہے۔
