Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں قابض اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں، انسانی بحران سنگین

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہوئے فضائی حملے، توپ خانے سے فائرنگ، مشینری اور ڈرون طیاروں کے ذریعے فائرنگ اور شہریوں کے گھروں کی تباہ کاری جاری رکھی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں مزید دو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اکتالیس سالہ منار سعید المدهون کو جنوبی خان یونس کے علاقہ الاقلیمی میں قابض اسرائیلی فوج نے گولی مار دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسےناصر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

اسی طرح محمود قاسم نامی فلسطینی شہری غزہ سٹی کے مشرقی علاقوں میں قابض فوج کی فائرنگ سے شہید ہوگیا۔

المعمدانی ہسپتال کے ایک ذریعے نے بتایا کہ محمود قاسم زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔

اس دوران قابض اسرائیل کے جنگی طیارے نے اتوار کے روز غزہ شہر میں برج شوا حضری پر نشریاتی اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ ایک اسرائیلی طیارے نے برج کے بالائی فلور پر بم گرایا جس کے نتیجے میں ٹاور مکمل طور پر تباہ ہوگیا، اور یہ تباہی غزہ پر جاری جنگ بندی کے دوران شہری تباہی کا ایک اور مظہر ہے۔

اس حملے کے بعد توپ خانے سے بھی برج کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چار شہری معمولی زخمی ہوئے۔

یہ ٹاور مختلف میڈیا دفاتر کا مرکز تھا، جبکہ وہاں کچھ پناہ گزین بھی موجود تھے، جن کے لیے مناسب جگہ دستیاب نہیں تھی۔

اسی طرح قابض فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ کے مغرب میں بھی شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے، خاص طور پر مغربی غزہ کے الرمال علاقے میں ایک عمارت پر حملہ ہوا۔

قابض فوج نے جنوب مشرق خان یونس میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جبکہ توپ خانے نے شہر کے جنوب مشرق کو نشانہ بنایا۔

قابض فوج کے ٹینکوں نے بھی جنوب مشرقی شہر دیر البلح میں مسلسل فائرنگ کی۔

دوسری جانب سول ڈیفنس کے مطابق وسطی علاقے کی ٹیموں نے البریج کیمپ میں ایک فضلہ ڈمپ اور تباہ شدہ گاڑیوں میں لگنے والی آگ بجھائی، جو اسرائیلی حملے کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔

گذشتہ ہفتے قابض فوج کی حملوں میں تین شہری شہید، جن میں دو بچے شامل تھے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

طبی ذرائع نے بتایا کہ دو بچے جن کا تعلق الزوارعہ خاندان سے تھا کمال عدوان ہسپتال کے قریب ایک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہوئے۔

ناصر ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ 26 سالہ نوجوان نور فرید ابو سته جنوب خان یونس کے علاقے قیزان النجار میں قابض فوج کی نشانہ بندی سے شہید ہوا۔

اکتوبر کے وسط میں سیز فائر کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں میں 481 فلسطینی شہید، 1313 زخمی ہوئے، جبکہ 713 شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔

اس طرح سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری قابض اسرائیلی نسل کشی میں مجموعی طور پر 71,654 فلسطینی شہید اور 171,391 زخمی ہوچکے ہیں، یہ تازہ ترین اعداد و شمار غزہ کی وزارت صحت نے گذشتہ ہفتے جاری کیے۔

غزہ کے شہری انتہائی مشکل انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، خاص طور پر سرد اور بارش والے موسم میں ان کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں، خستہ حال خیموں میں رہتے ہوئے شہری بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ سردی کے باعث ابتدائی موسم سرما سے اب تک 10 افراد شہید ہوچکے ہیں، جن میں ایک تین ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan