میڈرڈ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسپین کے متعلقہ سرکاری حکام نے ایک باضابطہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے جس میں اس شبہے کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ نام نہاد اسرائیلی پویلین میں شریک بعض کمپنیوں نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی جانب سیاحتی سفری پیکجز فروخت یا ان کی تشہیر کی تھی۔
اسپین کی وزارت برائے سماجی حقوق صارفین کے امور اور ایجنڈا 2030 نے اتوار کے روز جاری ایک بیان میں بتایا کہ یہ تفتیش اس امر کی جانچ کے لیے شروع کی گئی ہے کہ آیا اسرائیلی پویلین میں شریک کمپنیوں نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جانب سیاحتی دوروں کا اہتمام کیا یا ان کی تشہیر کی۔
وزارت سماجی بہبود نے وضاحت کی کہ یہ اقدام اس پس منظر میں اٹھایا گیا ہے کہ قابض اسرائیل نے بین الاقوامی سیاحتی نمائش فیطور میں شرکت کی جو 21 سے 25 جنوری کے دوران اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں منعقد ہوئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ستمبر 2025ء میں اسپین کی حکومت کی جانب سے منظور کردہ شاہی فرمان کی شق نمبر چار واضح طور پر مقبوضہ علاقوں سے آنے والی اشیا اور خدمات کی تشہیر پر پابندی عائد کرتی ہے۔
وزارت نے نشاندہی کی کہ مذکورہ فرمان میں غزہ میں جاری نسل کشی کا مقابلہ کرنے اور فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے ہنگامی اقدامات شامل ہیں جبکہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ قابض اسرائیل اس قانونی متن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ تفتیش میں ان الزامات کا بھی احاطہ کیا جا رہا ہے جن کے مطابق فیطور نمائش میں اسرائیلی پویلین میں شریک بعض سیاحتی کمپنیوں نے مغربی کنارے میں قائم قابض اسرائیلی بستیوں کی جانب سفری پیکجز پیش کیے۔
وزارت نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں اسپین کے نافذ العمل قوانین کے تحت غیر قانونی تشہیر کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔
بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ بعض اسرائیلی سیاحتی کمپنیوں پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں سیاحتی دوروں کے لیے اشتہارات دیے۔
وزارت نے واضح کیا کہ اس تفتیش کا مقصد ان کمپنیوں کی نشاندہی کرنا ہے جو مقبوضہ فلسطینی زمین پر قائم قابض اسرائیلی بستیوں میں سیاحتی اشیا اور خدمات کی فروخت یا تشہیر کرتی ہیں اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی سیکڑوں بستیوں اور نوآبادیاتی چوکیوں میں آباد قابض آبادکاروں کی تعداد تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار ہے جن میں سے لگ بھگ 2 لاکھ 50 ہزار مشرقی القدس میں مقیم ہیں۔
قابض آبادکار مغربی کنارے اور القدس میں روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں پر حملے کر رہے ہیں جن کا مقصد انہیں جبری طور پر بے دخل کرنا ہے یہ سب کچھ قابض افواج کی حفاظت اور بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کی سرکاری سرپرستی میں ہو رہا ہے۔
سنہ 2025ء کے دوران قابض آبادکاروں نے 4 ہزار 723 حملے کیے جن کے نتیجے میں 14 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ 13 بدوی آبادیوں کو جبری طور پر بے دخل کیا گیا جن میں تقریباً 1090 افراد شامل تھے یہ اعداد و شمار دیوار اور آبادکاری کے خلاف مزاحمتی ہیئت نے جاری کیے۔
