Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں اجتماعی قبروں کا المناک منظر، 50 شہداء کی نعشیں برآمد

غزہ- (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں سول ڈیفنس کی ٹیموں نے قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے ہولناک اثرات کو بے نقاب کرتے ہوئے مسجد صلاح الدین کے صحن سے 50 فلسطینی شہداء کی نعشیں برآمد کر لیں، جنہیں باقاعدہ تدفین کے لیے سرکاری قبرستانوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق سول ڈیفنس کی ٹیموں نے غزہ شہر کے جنوب میں واقع محلہ زیتون میں مسجد صلاح الدین کے صحن سے 50 فلسطینی شہداء کی لاشیں نکالیں، جنہیں قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی جنگِ نسل کشی کے دوران عارضی طور پر وہیں دفن کیا گیا تھا۔

ذرائع نے تصدیق کی کہ سول ڈیفنس کے عملے نے تمام نعشوں کو سرکاری قبرستانوں میں منتقل کر دیا ہے تاکہ رائج شدہ تدفینی پروٹوکول کے مطابق ان کی باوقار تدفین عمل میں لائی جا سکے، جبکہ مسجد کے اطراف میں تلاش اور تفتیش کا عمل بدستور جاری ہے۔

واضح رہے کہ سول ڈیفنس نے گذشتہ برس سات دسمبر کو بھی المعمدانی ہسپتال میں قائم عارضی قبروں سے 48 فلسطینیوں کی باقیات برآمد کی تھیں، جن میں 25 شہداء ایسے تھے جن کی شناخت نہیں ہو سکی تھی، بعد ازاں انہیں بھی سرکاری قبرستانوں میں دفن کیا گیا۔

اسی تناظر میں سول ڈیفنس اور وزارت صحت نے نامعلوم شہداء کی نعشوں کی دستاویز بندی کا عمل شروع کر دیا ہے، جس کے تحت ہر نعش کو ایک مخصوص نمبر دیا جا رہا ہے اور اس سے حیاتیاتی نمونہ حاصل کر کے وزارت صحت کے پاس محفوظ کیا جا رہا ہے۔

سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ نعشوں کی نمبرنگ اور نمونہ لینے کا مقصد مستقبل میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شہداء کی شناخت ممکن بنانا ہے، چاہے یہ سہولت غزہ کے اندر دستیاب ہو یا نمونے بیرونِ ملک بھیج کر یہ عمل مکمل کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت نعشوں کی منتقلی کا بنیادی مقصد شہداء کی تکریم ہے تاکہ انہیں معلوم اور باقاعدہ قبروں میں دفن کیا جا سکے، ساتھ ہی ہسپتالوں کے صحن خالی کر کے طبی مراکز کو بہتر انداز میں شہریوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

جنگ کے دو برسوں کے دوران فلسطینی شہریوں کو مجبوراً سینکڑوں نعشیں کھلے میدانوں، باغات، سکولوں اور سڑکوں پر دفن کرنا پڑیں، کیونکہ حالات انتہائی خطرناک تھے یا قبرستان قابض اسرائیل کے کنٹرول میں چلے گئے تھے۔

اس سے قبل یورومیڈیٹیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے غزہ کے مختلف علاقوں میں درجنوں عارضی اور غیر رسمی قبروں کی موجودگی کو دستاویزی شکل دی تھی۔

سنہ 10 اکتوبر کو ہونے والی سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے سول ڈیفنس کی ٹیمیں منظم انداز میں عارضی قبروں سے باقیات کی منتقلی اور منہدم گھروں کے ملبے تلے دبے شہداء کی نعشیں نکالنے کے عمل میں مصروف ہیں۔

متعلقہ ادارے محدود وسائل کے باوجود متاثرین کی شناخت کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، جس کے لیے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی مدد سے کپڑوں اور جسمانی علامات کے ذریعے شناخت کی جا رہی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan