(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کے ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی رہائش کا مسئلہ اس وقت سب سے سنگین اور نمایاں چیلنج بن چکا ہے جس کا سامنا محصور علاقے کو ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جانے والی خیموں کی تعداد بے گھر افراد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہرگز کافی نہیں، جبکہ قابض اسرائیل کے محاصرے اور مسلسل سفاکیت کے باعث انسانی حالات پہلے ہی نہایت ابتر ہو چکے ہیں۔
فرحان حق نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جانی چاہئیں، کیونکہ ان پابندیوں کا تسلسل انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے اور نہتے فلسطینی شہریوں کی اذیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے سامان کی آمد و رفت پر قدغنیں برقرار رکھنا اجتماعی سزا کے مترادف ہے جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس کے نتائج براہ راست بے گھر فلسطینی خاندانوں بالخصوص بچوں اور خواتین کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
