Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پاکستان

نتین یاہو کی شمولیت پر پاکستانی اپوزیشن کا بورڈ آف پیس پر اعتراض

اسلام آباد –(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے کہ اس نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ میں شرکت کا اعلان کیا۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل مشاورتی عمل کے بغیر کسی بھی رسمی شمولیت کو واپس لیا جائے۔

شہباز شریف حکومت نے ایک دن قبل غزہ امن منصوبے کے نفاذ میں معاونت کے لیے قائم کیے گئے بین الاقوامی فورم ‘بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی تھی۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بورڈ آف پیس کی تشکیل یا اس کے عملی طریقۂ کار کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم حکام کے مطابق اس فورم سے جنگ بندی کے انتظامات، انسانی امداد اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں وسیع تر سیاسی عمل کی حمایت کی توقع کی جا رہی ہے۔

اپوزیشن کی شدید ناراضگی

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں پالیسیاں بیرونی دباؤ کے تحت بنائی جا رہی ہیں اور پاکستان نے کبھی اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات کی بنیاد پر مرتب نہیں کی۔ انہوں نے حکومت پر اہم فیصلوں پر قومی اسمبلی کو اعتماد میں نہ لینے کی تنقید کی اور سوال کیا کہ کیا ایوان سے کوئی مشاورت کی گئی۔

قومی اسمبلی سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو کسی بھی صورت ایسے امریکی قیادت والے ‘بورڈ آف پیس’ کو قبول نہیں کرنا چاہیے جس میں نتین یاہو شامل ہوں۔ انہوں نے بورڈ آف پیس کے قیام پر بھی اعتراض کیا کہ ٹرمپ اپنی مرضی سے اس فورم کو تشکیل دے رہے ہیں، رکنیت طے کر رہے ہیں اور خود ہی اس کا چیئرمین ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا:
“اگر ہم پھر بھی امن، معاشی استحکام اور فلسطینیوں کے بہتر مستقبل کی امیدیں ایسے بورڈ سے وابستہ کریں تو یہ خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہوگا۔”

پی ٹی آئی کا ردعمل

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی حکومت کے ‘بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ پارٹی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ایسے بین الاقوامی فیصلے ہمیشہ مکمل شفافیت اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے جامع مشاورت کے ساتھ کیے جانے چاہئیں۔ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ جامع مشاورتی عمل مکمل ہونے تک حکومت اس اقدام سے دستبردار ہو جائے۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا:
“حکومت کی جلد بازی میں شرکت نہ صرف نامناسب بلکہ ناقابلِ فہم ہے۔”

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan