Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مشرقی غزہ میں صہیونی دہشت گردی، تین بھائی اور تین صحافی سمیت 11 فلسطینی شہید

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی کے مشرقی علاقوں میں فائرنگ اور گولہ باری کے دوران 11 فلسطینی شہریوں کو شہید کر دیا، جن میں تین صحافی ،تین سگے بھائی ایک خاتون ایک باپ اور اس کا کمسن بچہ شامل ہیں، جبکہ متعدد دیگر شہری زخمی ہوئے۔ اسی دوران قابض فوج نے رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور شمالی و جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی۔

میڈیا ذرائع نے دوپہر کے وقت اطلاع دی کہ قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں وسطی غزہ میں امریکی ہسپتال کے قریب ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں تین فلسطینی صحافی شہید ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق شہید ہونے والے صحافیوں میں محمد صلاح قشطہ عبدالرؤوف سمیر شعت اور انس غنیم شامل ہیں، جنہیں قابض اسرائیل نے نیتساریم کے علاقے میں مصری کمیٹی کے کیمپوں کی کوریج کے دوران نشانہ بنایا۔

اسی طرح وسطی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں قابض اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری سے تین سگے بھائی محمد ولید اور فیصل صقر ابو سلیسل شہید ہو گئے۔

اس سے قبل ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ وسطی غزہ میں دیر البلح شہر کے مشرق میں قابض اسرائیل کی فائرنگ اور گولہ باری سے تین فلسطینی شہری شہید ہوئے، جن میں دس سالہ بچہ سرحان الرجودی اس کے والد محمد سرحان سلیمان الرجودی عمر 37 سال اور بائیس سالہ موسیٰ محمد موسیٰ الرجودی شامل ہیں۔

خان یونس میں بھی ایک طبی ذریعے نے تصدیق کی کہ مشرقی خان یونس کے بنی سہیلہ علاقے میں قابض اسرائیلی فائرنگ سے تیرہ سالہ بچہ معتصم باللہ احمد محمد الشرافی شہید ہو گیا، جبکہ خان یونس کے المسلخ علاقے میں 32 سالہ خاتون حنان جمال حمدان ماضی شہید ہوئیں۔

اسی دوران مشرقی خان یونس میں قابض فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں مزید زخمیوں کو ناصر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اس سے پہلے ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مشرقی خان یونس میں دو شہری زخمی ہوئے، جبکہ وسطی غزہ میں البریج کیمپ کے مشرق میں ایک اور شہری زخمی ہوا۔

دوسری جانب مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ میں بیت لاہیا کے مشرق میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑا دیا اور جنوبی غزہ میں خان یونس کے مشرقی علاقوں جبکہ وسطی غزہ میں البریج کیمپ کے اطراف پر توپ خانے سے گولہ باری کی۔

بعد ازاں قابض اسرائیل کے ایک ہیلی کاپٹر نے وسطی غزہ میں دیر البلح کے علاقے کی جانب فائرنگ کی۔

اسی طرح قابض اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی غزہ میں رفح شہر کے مغربی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔

منگل کے روز قابض اسرائیلی فوج نے خان یونس کے جنوب مشرقی علاقوں میں اپنی تعیناتی کے دوران متعدد رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑا دیا، جو بار بار رہائشی بلاکس کو نشانہ بنانے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔

ادھر حماس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے سیز فائر معاہدے کے اعلان کے بعد سو دن کے دوران قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ پیش کیا، جس کے مطابق اس عرصے میں 483 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 169 بچے اور 64 خواتین شامل ہیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ زخمیوں کی تعداد 1294 تک پہنچ گئی، یعنی اوسطاً روزانہ 13 زخمی، جبکہ 96.3 فیصد شہداء کو زرد لائن کے اندر نشانہ بنایا گیا۔

حماس کے مطابق قابض اسرائیل نے معاہدے کی 1298 خلاف ورزیاں کیں، جن میں روزانہ اوسطاً 13 زمینی اور فائرنگ کی خلاف ورزیاں شامل ہیں، اس کے علاوہ زرد لائن کے اندر 200 رہائشی مکانات اور بلاکس کو دھماکوں سے تباہ کیا گیا اور 50 شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں کھلے سمندر میں مچھیرے بھی شامل تھے، جسے تحریک نے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

اسی تناظر میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تحریک نے آخری اسرائیلی قیدی کی لاش کے حوالے سے تمام دستیاب معلومات فراہم کیں اور تلاش کی کوششوں میں مثبت تعاون کیا۔

انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل نے بارہا زرد لائن کے پیچھے علاقوں میں تلاش کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی، جبکہ حماس نے ثالثوں اور ضامن ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے اپنی آمادگی برقرار رکھی۔

انسانی صورتحال کے حوالے سے غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ شدید سردی کے باعث چھ ماہ کی ایک بچی جاں بحق ہو گئی، جس کے بعد موسم سرما کے آغاز سے اب تک سردی سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ بے گھر شہریوں کو رہائش اور حرارت کے بنیادی وسائل میسر نہیں، کیونکہ ان اشیاء کے داخلے پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

اسی طرح الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ مختلف عمر کے افراد حتیٰ کہ نوجوان بھی انفلوئنزا وائرس اور اس کی نئی اقسام کے باعث جاں بحق ہو رہے ہیں۔

انہوں نے اس کی وجہ محصور آبادی کی قوت مدافعت میں شدید کمی کو قرار دیا، جو سخت معاشی اور انسانی حالات کا نتیجہ ہے، اور ادویات اور طبی سامان کی خطرناک قلت سے خبردار کیا، خصوصاً کینسر کی ادویات ڈائلیسز کے آلات اور دائمی امراض کے علاج مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan