(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رابطہ امناء الاقصیٰ کے رکن اور امورِ القدس کے ماہر فخری ابو دیاب نے قابض اسرائیل کی جانب سے القدس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی انروا کے صدر دفتر کو مسمار کرنے اور اس کی جگہ تقریباً 1400 رہائشی آبادکاری یونٹس تعمیر کرنے کے منصوبے کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
القدسی محقق فخری ابو دیاب نے صحافتی بیانات میں کہا کہ قابض اسرائیل کا یہ اقدام دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ نہ بین الاقوامی قانون کی کوئی پروا کرتا ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کو حاصل قانونی استثنیٰ کی کوئی حیثیت تسلیم کرتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ قدم ایک منظم اور طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے جو فلسطینی پناہ گزینوں کے قضیے کے خاتمے کی جانب پہلا عملی مرحلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قابض اسرائیل نہ صرف عالمی قراردادوں کو کھلے عام پامال کر رہا ہے بلکہ القدس کے ساتھ ایسا سلوک کر رہا ہے جیسے یہ قابض اسرائیل کی نام نہاد ریاست کا حصہ ہو جہاں وہ بلا روک ٹوک جو چاہے کر سکتا ہے۔
فخری ابو دیاب کے مطابق یہ منصوبہ شیخ جراح کے علاقے میں تقریباً 42 دونم اراضی کو نشانہ بناتا ہے جہاں منگل کی صبح قابض اسرائیلی فورسز نے انروا سے وابستہ عمارتوں اور تنصیبات کو منہدم کر دیا اور قابض حکومت کے نام نہاد قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کی نگرانی میں اس مقام پر قابض اسرائیلی پرچم لہرا دیا گیا۔
قابض اسرائیلی فورسز مشرقی مقبوضہ القدس میں اس علاقے پر جہاں انروا کا صدر دفتر قائم تھا تقریباً 1400 آبادکاری رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ابو دیاب نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل نے انروا کے صدر دفتر کے کچھ حصے منہدم کرنے کے بعد وہاں مکمل کنٹرول قائم کر لیا اور قابض اسرائیلی پرچم لہرا کر یہ ظاہر کیا کہ قابض سوچ کے مطابق یہ مقام اب قابض اسرائیلی خود مختاری کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ اقدام القدس سے اقوام متحدہ کی موجودگی کے مکمل خاتمے کی تمہید ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس آبادکاری منصوبے کے تحت تمام موجودہ عمارتوں کو مکمل طور پر مسمار کیا جائے گا اور ان کی جگہ کثیر المنزلہ آبادکاری عمارتیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ شہر سے عالمی اور اقوام متحدہ کے وجود کے آثار مٹا کر ایک نئے آبادکاری مرکز میں تبدیل کیا جا سکے۔
فخری ابو دیاب نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات دیگر سفارتی اور بین الاقوامی اداروں کے خلاف بھی خطرناک پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں جو قابض اسرائیل کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی اور غزہ سمیت دیگر علاقوں میں جاری قتل عام اور مسلسل خلاف ورزیوں پر عدم ردعمل نے قابض اسرائیل کو مزید جارحیت کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
سنہ 2025ء کے آغاز میں انروا نے وہ صدر دفتر خالی کر دیا تھا جہاں وہ انیس سو پچاس کی دہائی سے کام کر رہی تھی۔ یہ فیصلہ قابض اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کے بعد کیا گیا جس کے تحت کنیسٹ کی منظور کردہ قانون سازی کے ذریعے القدس میں انروا کے کام پر پابندی عائد کی گئی۔ اسی سال کے اختتام پر کنیسٹ نے انروا کے دفاتر کی بجلی اور پانی منقطع کرنے کا قانون بھی منظور کیا جس پر عالمی سطح پر شدید مذمت اور تنقید کی گئی۔
