غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے وسطی غزہ میں کی گئی ایک اور سنگین جنگی جارحیت کے نتیجے میں تین فلسطینی صحافی شہید ہو گئے۔ یہ صحافی مصری کمیٹی کے لیے کام کر رہے تھے اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قابض دشمن کے وحشیانہ حملے کا نشانہ بنے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کے روز دن کے وقت قابض اسرائیلی بمباری میں تین صحافی اس وقت شہید ہوئے جب وسطی غزہ میں امریکی ہسپتال کے قریب مصری کمیٹی کے کیمپوں کی عکس بندی کے لیے ان کی گاڑی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ اس منظم سفاکیت کا تسلسل ہے جس کے تحت قابض اسرائیل دانستہ طور پر صحافیوں اور سچ کی آواز کو خاموش کرنے کی مجرمانہ کوشش کر رہا ہے۔
میڈیا ذرائع نے بتایا کہ اس جارحیت میں شہید ہونے والے صحافیوں کی شناخت محمد صلاح قشطہ، عبد الرؤوف سمیر شعت اور انس غنیم کے طورپرکی گئی ہے۔
یہ المناک واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب قابض اسرائیلی فوج کی خونریز کارروائیاں شدت اختیار کر چکی ہیں۔ اسی سلسلے میں مزید آٹھ فلسطینی شہری شہید کیے گئے جن میں مشرقی البریج کیمپ میں تین سگے بھائی، مشرقی دیر البلح میں ایک باپ اور اس کا بچہ جبکہ خان یونس میں ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہیں۔
غزہ پٹی کے خلاف جاری نسل کش جنگ کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل کی دانستہ بمباری اور ٹارگٹڈ حملوں میں 260 صحافی شہید ہو چکے ہیں جو عالمی سطح پر صحافت اور انسانی اقدار کے خلاف ایک کھلا اعلان جنگ ہے۔
