Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی جارحیت، گھروں کی مسماری اور گولہ باری

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بدھ کے روز قابض اسرائیل کی فورسز کی فائرنگ سے متعدد فلسطینی شہری زخمی ہو گئے، جبکہ اسی دوران غزہ پٹی میں رہائشی عمارتوں کو بارودی مواد سے اڑانے کا سلسلہ جاری رہا اور شمالی و جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ مشرقی خان یونس میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو شہری زخمی ہوئے، جبکہ وسطی غزہ میں البریج کیمپ کے مشرقی علاقے میں ایک اور شہری زخمی ہوا۔

اس سے قبل مقامی ذرائع نے اطلاع دی کہ قابض اسرائیل کی فورسز نے شمالی غزہ میں بیت لاہیا کے مشرقی علاقوں میں رہائشی عمارتوں کو مسمار کیا اور جنوبی غزہ میں خان یونس کے مشرقی حصوں جبکہ وسطی غزہ میں البریج کیمپ کے اطراف توپ خانے سے شدید گولہ باری کی۔

اسی طرح قابض اسرائیل کے ایک ہیلی کاپٹر نے بعد ازاں وسطی غزہ میں دیر البلح کے علاقے کی جانب فائرنگ کی۔

قابض اسرائیل کی توپ خانے نے جنوبی غزہ میں رفح شہر کے مغربی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔

منگل کے روز قابض اسرائیلی فوج نے خان یونس شہر کے جنوب مشرقی علاقوں میں جہاں اس کی فورسز تعینات ہیں، رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑا دیا، یہ کارروائیاں بار بار رہائشی بلاکس کو نشانہ بنانے کے سلسلے کا حصہ تھیں۔

اسی دوران حماس نے ایک بیان جاری کیا جس میں سیز فائر کے اعلان کے بعد سو دنوں کے دوران قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ بیان کے مطابق اس عرصے میں 483 فلسطینی شہید ہوئے جن میں 169 بچے اور 64 خواتین شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ زخمیوں کی تعداد 1294 تک پہنچ گئی، جو یومیہ اوسطاً 13 زخمی بنتے ہیں، جبکہ 96.3 فیصد شہداء کو زرد لکیر کے دائرے میں نشانہ بنایا گیا۔

حماس کے مطابق قابض اسرائیل نے سیز فائر معاہدے کی مجموعی طور پر 1298 خلاف ورزیاں کیں، جن میں روزانہ اوسطاً 13 زمینی اور فائرنگ کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زرد لکیر کے اندر 200 رہائشی گھروں اور آبادیوں کو بارودی کارروائیوں سے تباہ کیا گیا اور 50 شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں کھلے سمندر میں ماہی گیر بھی شامل تھے، جسے تحریک نے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

اسی سلسلے میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ جماعت نے قابض اسرائیلی آخری اسیر کی میت کے حوالے سے دستیاب تمام معلومات فراہم کر دی ہیں اور تلاش کی کوششوں کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ قابض اسرائیل نے زرد لکیر کے پیچھے واقع علاقوں میں تلاش کی کارروائیوں کو بارہا ناکام بنایا، جبکہ حماس نے ثالثوں اور ضامن ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی تاکہ کسی نتیجے تک پہنچا جا سکے۔

انسانی صورتحال کے حوالے سے غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ شدید سردی کے باعث چھ ماہ کی ایک شیر خوار بچی جاں بحق ہو گئی، جس کے بعد سردی کے باعث جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ بے گھر شہری رہائش اور حرارت کے بنیادی وسائل سے محروم ہیں، کیونکہ ان اشیا کی ترسیل پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

ادھر الشفاء ہسپتال کے طبی کمپلیکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ مختلف عمر کے افراد، جن میں نوجوان بھی شامل ہیں، انفلوئنزا وائرس اور اس کی مختلف اقسام کے پھیلاؤ کے باعث جان کی بازی ہار رہے ہیں۔

انہوں نے اس کی وجہ شہریوں کی قوت مدافعت میں شدید کمی قرار دی جو انتہائی کٹھن حالات زندگی کا نتیجہ ہے، اور خبردار کیا کہ ادویات اور طبی سامان کی خطرناک قلت پیدا ہو چکی ہے، کینسر کی تمام ادویات، گردوں کی ڈائلیسز کے سامان اور دائمی امراض کے علاج مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan