(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ پر مسلط سفاک جنگ کے بعد کے مرحلے میں ایسے منصوبوں پر گفتگو ہو رہی ہے جن کے تحت ایک نام نہاد وصایت کونسل یا امن کونسل قائم کر کے غزہ کی انتظامیہ چلانے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں معروف مفکر اور سیاسی محقق ڈاکٹر اسامہ الاشقر نے اس منصوبے کا گہرا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس کے سیاسی اور سکیورٹی خطرات سے خبردار کرتے ہوئے اس امر پر شدید شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا یہ منصوبہ فلسطین کے دیرینہ مسئلے کا کوئی حقیقی حل پیش کر سکتا ہے یا موجودہ بحران کی جڑوں کا علاج کر سکتا ہے۔
سکیورٹی پہلو اور اسلحہ چھیننے کی ترجیح
ڈاکٹر اسامہ الاشقر کے مطابق امن کونسل کی اولین اور مرکزی ذمہ داری مقامی قوتوں سے اسلحہ چھیننا ہو گی خواہ یہ عمل کسی مفاہمت کے ذریعے ہو یا جبر کے ذریعے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان تمام ڈھانچوں کو توڑنے کی کوشش کی جائے گی جنہوں نے قابض اسرائیل کے مقابلے میں مزاحمت اور بازدار قوت کا کردار ادا کیا۔ اس منصوبے کے تحت ایک نیا سکیورٹی نظام قائم کرنے کی بات کی جا رہی ہے جو نام نہاد بین الاقوامی استحکام فورس کی نگرانی میں کام کرے گا۔
وہ اس رجحان کو سکیورٹی کے تصور میں بنیادی بگاڑ قرار دیتے ہیں جہاں قابض اسرائیل کی سکیورٹی کو فلسطینی عوام کی سلامتی اور ان کے بنیادی حقوق پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
انتظامی کمیٹی اور سیاسی فریم ورک کی عدم موجودگی
ڈاکٹر الاشقر ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایسی انتظامی کمیٹی کے قیام پر کڑی تنقید کرتے ہیں جس کے پاس نہ کوئی سیاسی پس منظر ہو اور نہ عوامی مینڈیٹ۔ ان کے نزدیک محصور غزہ جیسے خطے میں سیاست کو انتظامیہ سے الگ کرنا غیر جانبداری نہیں بلکہ بحران کو جوں کا توں برقرار رکھنے اور اسے دوبارہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ سیاسی ویژن کے بغیر ایسی انتظامیہ محض روزمرہ بحرانوں کو سنبھالنے کا ذریعہ بنے گی جبکہ ان کا بنیادی حل اس کے بس میں نہیں ہو گا۔
مقامی زمینی حقائق کے چیلنجز
وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ مجوزہ کمیٹی کو شدید سماجی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہو گا کیونکہ غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہو چکی ہے اور عوامی ضروریات دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔ اس کے باوجود اس کمیٹی کے پاس نہ تو اپنے دفاع کے وسائل ہوں گے اور نہ فیصلہ سازی کا اختیار۔ ان کا کہنا ہے کہ امن کونسل جس پر غالب امکان ہے کہ امریکہ کا غلبہ ہو گا اس کمیٹی کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ یوں یہ کمیٹی براہ راست مقامی معاشرے سے ٹکراؤ کا شکار ہو گی اور یہ تصادم بالآخر ناکامی اور عوامی اعتماد کے خاتمے پر منتج ہو گا۔
علاقائی ثالث ممالک کی شمولیت
ڈاکٹر الاشقر عرب اور اسلامی ممالک کو انتظامی کونسل میں شامل کرنے کو ان قوتوں کو غیر موثر بنانے کی کوشش قرار دیتے ہیں تاکہ منصوبے کو علاقائی پردہ فراہم کیا جا سکے اور ان پر ایسے فیصلوں کا بوجھ ڈال دیا جائے جو عملاً غالب طاقتوں کے مفاد میں ہوں۔
ان کے مطابق ان ممالک کو امریکہ کی پالیسیوں کی شدت کم کرنے کا کردار تو دیا جائے گا مگر فیصلہ سازی کے اصل دھارے پر اثر انداز ہونے کی کوئی حقیقی صلاحیت انہیں حاصل نہیں ہو گی۔
محدود مثبت پہلو
اپنے سخت تنقیدی تجزیے کے باوجود ڈاکٹر الاشقر چند محدود مثبت پہلوؤں کو یکسر رد نہیں کرتے۔ ان کے مطابق سب سے نمایاں بات یہ ہو سکتی ہے کہ عوام کو روزمرہ کی کڑی انتظامی ذمہ داریوں سے کچھ حد تک نجات ملے گی۔ مزید یہ کہ مجوزہ کمیٹی کے اراکین کا غزہ سے ہونا اور کسی حد تک ایک شہری انتظامیہ کا وجود خواہ عارضی ہی کیوں نہ ہو عمومی زندگی کی جزوی بحالی کی علامت بن سکتا ہے۔
استحکام فورس کے خطرات
ڈاکٹر الاشقر خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی استحکام فورس اگر واضح قانونی اور اقوام متحدہ کی پشت پناہی کے بغیر قائم کی گئی اور اسے عوامی قبولیت حاصل نہ ہوئی تو وہ امن قائم کرنے کے بجائے غلبے کا آلہ بن سکتی ہے۔ اس صورت میں داخلی ٹکراؤ اور غیر متوقع کشیدگی کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔
جاری جارحیت کے حقائق کو نظرانداز کرنا
وہ اس منصوبے پر یہ کہہ کر بھی تنقید کرتے ہیں کہ اس میں قابض اسرائیل کی مسلسل فوجی مداخلت اور ٹارگٹ کلنگ کی پالیسی کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشیدگی کی فضا برقرار رہے گی اور سکیورٹی کا عدم استحکام مسلسل بھڑکتا رہے گا کیونکہ سکیورٹی کی تعریف یک طرفہ ہے جو فلسطینی عوام کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتی ہے۔
ماضی کے تجربات کی روشنی میں ڈاکٹر الاشقر مجوزہ تعمیر نو کے عمل پر بھی سوال اٹھاتے ہیں کیونکہ اس پر قابض اسرائیل کا کنٹرول ہو گا جو مواد راستوں اور طریقہ کار سب پر حاوی رہے گا۔ ان کے نزدیک ایسی صورت میں کوئی بھی تعمیر نو کا منصوبہ آسانی سے سبوتاژ کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں عوامی اعتماد مزید مجروح ہو گا۔
وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ موجودہ منصوبہ سیاسی تصفیے کے بغیر اسلحہ چھیننے اور ضمانتوں کے بغیر تعمیر نو کی بات کرتا ہے جبکہ محاصرے کے خاتمے کا کوئی واضح وعدہ اس میں شامل نہیں۔ اس طرح یہ ایک نمائشی امن ہو گا جو پائیداری کی بنیادی شرائط سے محروم ہے۔
خلاصہ کے طور پر ڈاکٹر اسامہ الاشقر کا کہنا ہے کہ مجلسِ وصایت دراصل تنازع کے حل کے بجائے اس کے انتظام کا ایک نیا ماڈل ہے جس کے پیچھے کوئی جامع سیاسی وژن یا واضح خودمختار افق موجود نہیں۔ ان کے بقول یہ منصوبہ عارضی ثابت ہو گا اور اس کا انجام سابقہ ناکام تجربات کی طرح ناکامی کے زیادہ قریب ہے۔
