(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مغربی سفارت کاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نام نہاد امن کونسل کے قیام کے اعلان کو یورپی یونین کے ممالک کی جانب سے وسیع پیمانے پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یورپی ممالک کی اکثریت اس کونسل میں شامل ہونے سے گریز کرے گی۔ اس تناظر میں کریملن نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کو بھی اس کونسل میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
عبرانی اخبار ہارٹز نے ایک مغربی سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ کسی بھی یورپی ملک کی امن کونسل میں شمولیت کی توقع نہیں کی جا رہی۔ اس سفارت کار کے مطابق گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کی دھمکیوں نے یورپی یونین کے لیے تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوتین کو دی گئی دعوت کے حوالے سے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ پوتین اس دعوت کو قبول کریں گے یا ٹرمپ کی سربراہی میں کام کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ خاص طور پر اس پس منظر میں کہ یوکرین پر حملے کے باعث دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری ہو چکا ہے جبکہ امریکہ اور یورپی یونین روس پر وسیع پابندیاں بھی عائد کر چکے ہیں۔
ایک اور سفارت کار نے انکشاف کیا کہ دستیاب معلومات کے مطابق یوکرین کو بھی اس کونسل میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔
تفصیلات سے آگاہ دو سفارت کاروں نے تصدیق کی ہے کہ قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو کو بھی نام نہاد امن کونسل کی رکنیت کی دعوت دی گئی ہے۔
ان میں سے ایک سفارت کار کے مطابق بنجمن نیتن یاھو کو پہلے ہی اس بات کا علم تھا کہ ترکیہ اور قطر کو کونسل میں شرکت اور غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے قائم کی جانے والی ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم وہ اس وقت حیران رہ گئے جب ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور قطری وزیر اعظم کے مشیر علی الذوادی کو اس ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت کی دعوت دی گئی۔
اسی تناظر میں ایک یورپی سفارت کار نے بتایا کہ گذشتہ روز یورپی یونین کے ممالک کے سفیروں نے گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کے انتباہ پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس میں امن کونسل کے مجوزہ منصوبے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
سفارت کار کے مطابق اس کونسل کا قیام جس میں بعض یورپی ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے نہ صرف اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور بنانے کی کوشش ہے بلکہ یہ یورپی یونین کے لیے بھی ایک براہ راست چیلنج ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ٹرمپ انتظامیہ کھلے عام یورپی یونین مخالف مؤقف اختیار کر چکی ہے اور یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے یورپی اتحاد کو توڑنے اور یورپ میں انتہا پسند دائیں بازو کی قوتوں کی حمایت کی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
اتوار کے روز متعدد حکومتوں نے اعلان کیا تھا کہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے مجلسِ امن کے قیام کا ٹرمپ کا منصوبہ اقوام متحدہ کے کردار کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
اخبار ہارٹز نے لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ یہ اقدام اجتماعی حل کے بجائے ایک عالمی طاقت کی بالادستی کو فروغ دیتا ہے۔ سفارت کار نے زور دیا کہ ان کا ملک کسی بھی ایسے راستے کو ترجیح دیتا ہے جس کی قیادت اقوام متحدہ کرے۔
دعوت نامے کی ایک نقل اور کونسل کے مسودہ منشور کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ تاحیات امن کونسل کی صدارت کریں گے اور مجلس اپنے کام کا آغاز غزہ کے معاملے سے کرے گی جس کے بعد اس کے دائرہ کار کو دنیا بھر کے دیگر تنازعات تک وسعت دی جائے گی۔
دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ کسی بھی ملک کی رکنیت کی مدت تین سال ہو گی جبکہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کے عوض مستقل رکنیت حاصل کی جا سکے گی تاکہ مجلس کی سرگرمیوں کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
