مقبوضہ القدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) “ہم مسجد اقصیٰ کے محافظ بن کر ڈٹے رہیں گے، بے دخلی کی پالیسی ہمیں نہیں توڑ سکتی۔ میں سنہ 2013ء سے آج تک مسلسل تعاقب میں ہوں اور یہ میرا نواں سال ہے کہ میں ماہِ رمضان میں مسجد اقصیٰ میں داخل نہیں ہو سکا”۔
ان درد بھری سطروں میں مقبوضہ بیت المقدس کے مرابط نظام ابو رموز برسوں کی اذیت ناک کہانی سمیٹ دیتے ہیں، جب قابض اسرائیلی فوج نے انہیں ایک بار پھر مسجد اقصیٰ مبارک سے بے دخلی کا نیا حکم تھما دیا۔ یہ سلسلہ وار ظلم صرف ابو رموز تک محدود نہیں بلکہ برسوں سے مسجد اقصیٰ کے مرابطین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ابو رموز کی گفتگو ایک ایسے تلخ منظر کی عکاسی کرتی ہے جو ہر سال دہرایا جاتا ہے۔ ماہِ رمضان کی آمد سے قبل قابض اسرائیل القدس کے باسیوں کے سامنے انتقام کی تلوار بے دخلی کے نام پر لہرا دیتا ہے، مرابطین اور نمازیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک منظم پالیسی کے تحت مسجد اقصیٰ کو اس کے چاہنے والوں سے خالی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
تاحال قابض اسرائیلی حکام 60 سے زائد بے دخلی کے احکامات جاری کر چکے ہیں، جن کی زد میں اسلامی اوقاف کے ملازمین، صحافی، سرکاری شخصیات اور بیت المقدس کے کارکن آئے ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تعداد کسی بھی وقت مزید بڑھ سکتی ہے، حتیٰ کہ خود ماہِ رمضان کے دنوں میں بھی۔
بدنیتی پر مبنی مقاصد اور منظم دباؤ
قابض اسرائیل اس پالیسی کے ذریعے مسجد اقصیٰ پر مکمل کنٹرول مسلط کرنا چاہتا ہے، یہ طے کرتے ہوئے کہ کون اندر داخل ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔ اس کا مقصد ماہِ مقدس میں حرم قدسی کو نمازیوں سے خالی کرنا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور جان بوجھ کر ان کے روحانی ماحول کو سبوتاژ کیا جاتا ہے، حالانکہ یہی مہینہ ہمیشہ رباط اور عبادت کا مظہر رہا ہے۔
ایک مانوس منظر میں مسجد اقصیٰ کو یہودی آبادکاروں کے حملوں اور ان کی عبرانی تقریبات کے لیے کھول دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے اطراف کو عسکری چھاؤنی میں بدل دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی نمازیوں کے لیے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں یا سخت پابندیاں لگا دی جاتی ہیں، خصوصاً ان کے مذہبی تہواروں اور مواقع پر۔
رمضان سے پہلے اشتعال انگیز شدت
گذشتہ ہفتوں کے دوران قابض اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ مبارک سے بے دخلی کی پالیسی میں غیرمعمولی تیزی پیدا کر دی ہے۔ القدس کے شہریوں اور مبصرین کے نزدیک یہ ایک پیشگی اشتعال انگیزی ہے، جس کا مقصد رمضان سے قبل مسجد کو مرابطین اور نمازیوں سے خالی کرنا ہے۔ یہ احکامات خاص طور پر القدس کے کارکنوں، مسجد اقصیٰ کے محافظوں اور رباط کے لیے معروف شخصیات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بے دخلی کے یہ احکامات مختلف ادوار کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، جن میں بعض کئی ماہ پر محیط ہوتے ہیں۔ “اشتعال انگیزی” یا “سکیورٹی کے لیے خطرہ” جیسے مبہم الزامات لگا کر بغیر کسی واضح فردِ جرم کے، یہ احکامات دیے جاتے ہیں، جو ان اقدامات کی خالصتاً سیاسی نوعیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
یہ سب ایک سالانہ پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نمازیوں کی تعداد کم کرنا، عوامی حاضری کی قوت کو توڑنا اور آبادکاروں کے حملوں اور تلمودی رسومات کے لیے فضا ہموار کرنا ہے، جو قابض اسرائیلی پولیس کی مکمل حفاظت میں انجام دی جاتی ہیں۔
اسی تناظر میں، قابض فورسز نے گذشتہ جمعہ کی نماز کے بعد نمازیوں کے خلاف گرفتاریاں بھی کیں۔ یہ ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے جو گذشتہ ہفتوں کے دوران القدس کے متعدد شہریوں کے خلاف جاری رہی، اور اس کے ساتھ مسجد اقصیٰ سے بے دخلی کے فیصلے بھی صادر کیے گئے۔
اعداد و شمار اور زمینی حقائق
وادی حلوہ معلوماتی مرکز سلوان نے وضاحت کی ہے کہ قابض اسرائیلی انٹیلی جنس نے مختلف عمر کے 35 شہریوں کو طلب کیا، جن میں بزرگ، نوجوان، کم عمر لڑکے اور خواتین شامل ہیں۔ انہیں القدس کے قدیم شہر میں القشلہ پولیس مرکز بلایا گیا، جہاں انہیں ایک ہفتے کے لیے مسجد اقصیٰ سے بے دخلی کے احکامات دیے گئے، جن میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
مرکز کے مطابق قابض حکام نے ان شہریوں کو ہدایت دی کہ بے دخلی کی مدت ختم ہوتے ہی دوبارہ تفتیشی مراکز میں حاضر ہوں۔ ہر ایک کو تحریری حکم دیا گیا، جس میں “امنِ عامہ اور سکیورٹی کو لاحق حقیقی خطرے” کا بہانہ درج تھا، جیسا کہ حکم کے متن میں بیان کیا گیا۔
بے دخلی کے ان احکامات کے ساتھ فضائی نقشے بھی منسلک کیے گئے، جن میں وہ گلیاں، دروازے اور راستے واضح کیے گئے ہیں جہاں جانے سے بے دخل شہریوں کو منع کیا گیا ہے۔ مرکز نے نشاندہی کی کہ طلب کیے گئے زیادہ تر افراد سابق اسیران ہیں اور قابض حکام نے ان کی سابقہ بے دخلی کی مدت ختم ہوتے ہی فوراً نئے احکامات جاری کر دیے، جو گذشتہ ستمبر میں دیے گئے تھے۔ اس کا مقصد دباؤ کو برقرار رکھنا اور انہیں مسجد اقصیٰ تک پہنچنے سے روکنا ہے۔
مرکز نے مزید بتایا کہ زیادہ تر طلب کیے گئے نوجوان صور باہر اور سلوان سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ بعض افراد نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دی۔
بے دخل کیے گئے افراد کے نام
جن افراد کے نام سامنے آئے ہیں ان میں صہیب عفانہ، اسماعیل عفانہ، ایوب عفانہ، شیخ عبد الرحمن بکیرات، عز الدین عطون، دجانہ عطون، حذیفہ عطون، ڈاکٹر ناجح بکیرات، نضال حجازی، طارق سعدہ العباسی، اسحاق عفانہ، اویس حمادہ، محمد موسیٰ عبیسان، موسیٰ ابو تیہ، خلیل الغزاوی، سامی ابو الحلاوہ، مامون الرازم شامل ہیں۔
وادی حلوہ معلوماتی مرکز سلوان نے آخر میں اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ القدس کی بلدات اور محلوں پر چھاپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں کو طلبی کے نوٹس دیے جا رہے ہیں، جبکہ فون کالز کے ذریعے بھی حاضری کے دن اور وقت مقرر کیے جاتے ہیں۔ یہ تمام مناظر ماہِ رمضان کی آمد سے قبل صہیونی جارحیت کے دائرہ کار کے پھیلاؤ کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔
