(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے اعلان کیا ہے کہ وہ کنیسٹ میں 7 اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات کی تحقیقات کے لیے سیاسی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام سے متعلق جاری مباحث کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔
قابض اسرائیل کے سرکاری عبرانی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے سربراہان نے دستور کمیٹی کے ان اجلاسوں میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جو سات اکتوبر کی ناکامیوں کی چھان بین کے لیے سیاسی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کے حوالے سے منعقد ہو رہے ہیں۔
القسام بریگیڈز نے جو حماس کا عسکری ونگ ہے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع قابض اسرائیلی فوجی اڈوں اور استعماری بستیوں پر طوفان الاقصیٰ کے نام سے ایک عسکری کارروائی کی تھی جس کے نتیجے میں قابض اسرائیلی ہلاک اور گرفتار ہوئے تھے۔ یہ کارروائی فلسطینی عوام اور ان کے مقدسات کے خلاف قابض اسرائیل کے روزانہ جرائم کے جواب میں کی گئی تھی، بالخصوص مسجد اقصیٰ کے خلاف مسلسل جارحیت کے تناظر میں یہ آپریشن کیا گیا تھا۔
قابض اسرائیلی حکام خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ سات اکتوبر کو پیش آنے والے واقعات قابض اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی انٹیلی جنس اور عسکری ناکامی تھے، جنہوں نے عالمی سطح پر ریاست اور اس کی فوج کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
امریکہ کی سرپرستی میں قابض اسرائیل نے 7 اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ پٹی پر نسل کشی کی جنگ مسلط کی جو دو برس تک جاری رہی، اس دوران 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جبکہ 171 ہزار سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے۔
اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے ایک مشترکہ بیان میں مجوزہ تحقیقاتی کمیٹی کو پردہ پوشی کی کمیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ذمہ داری سے فرار اور 7 اکتوبر کی حکومت اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی ذاتی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف ایک سرکاری اور آزاد تحقیقاتی کمیٹی جس کے ارکان کا تقرر سپریم کورٹ کرے، ہی حقیقت کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جیسا کہ سرکاری نشریاتی ادارے نے بھی واضح کیا۔
اپوزیشن کی جانب سے بارہا ایک آزاد سرکاری تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، جبکہ حکومت سیاسی کمیٹی کے قیام پر اصرار کر رہی ہے۔ تقریباً دو ماہ قبل حکومت نے اسی نوعیت کی کمیٹی کے قیام کی سمت پیش قدمی کا فیصلہ کیا تھا۔
24 دسمبر گذشتہ سال کنیسٹ نے ابتدائی طور پر ایک ایسے بل کی منظوری دی جس کے تحت حکومت کو سیاسی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اختیار دیا جاتا ہے، بعد ازاں اسے دستور کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تاکہ آئندہ مراحل میں اس پر رائے شماری کی جا سکے۔ قابض اسرائیلی قانون کے مطابق کسی بھی قانون کو نافذ ہونے کے لیے تین مراحل میں منظوری درکار ہوتی ہے۔
اس بل کے مطابق جو لیکوڈ پارٹی کے رکن ارئیل کیلنر نے پیش کیا، حکمران اتحاد کو کمیٹی بنانے کا اختیار حاصل ہوگا جبکہ وزیر اعظم نیتن یاھو کو اس کے کام پر اثر انداز ہونے کی گنجائش بھی میسر ہوگی، جیسا کہ عبرانی اخبار ہارٹز نے رپورٹ کیا۔
مسودہ قانون میں یہ بھی درج ہے کہ کنیسٹ کا اسپیکر اتحاد اور اپوزیشن کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد کمیٹی کے ارکان کا انتخاب کرے گا، جس کی توثیق 120 میں سے 80 ارکان کی اکثریت سے کی جائے گی۔ اگر یہ اکثریت حاصل نہ ہو سکی تو کنیسٹ کمیٹی کا سربراہ تین ارکان منتخب کرے گا جبکہ باقی تین ارکان اپوزیشن لیڈر نامزد کرے گا۔
اگر اپوزیشن اپنے نمائندے نامزد کرنے سے انکار کرے تو کنیسٹ کا اسپیکر باقی ماندہ ارکان کا انتخاب خود کرے گا۔
22 دسمبر گذشتہ سال بنجمن نیتن یاھو نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ہی تحقیقاتی کمیٹی کے اختیارات اور دائرہ کار کا تعین کرے گی۔
