Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کے خلاف خطرناک اقدامات: مروان الاقرع

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سیاسی تجزیہ کار اور مصنف مروان الاقرع نے قابض اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کے خلاف بڑھتی ہوئی مجرمانہ کارروائیوں اور سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسیران کو ایک منظم مہم کے تحت آہستہ آہستہ قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مہم اسیران کے حوصلے پست کرنے ،ان کی استقامت توڑنے اور وطن کی آزادی اور وقار کے لیے دی گئی قربانیوں کو کچلنے کی مذموم کوشش ہے۔

مروان الاقرع نے بتایا کہ ان مجرمانہ اقدامات کے نتیجے میں گذشتہ دو برسوں کے دوران اسیران کی بڑی تعداد شہادت کے درجے پر فائز ہو چکی ہے جو ایک بے مثال اور ہولناک حقیقت ہے۔ یہ تعداد گزشتہ نصف صدی کے دوران تحریک اسیران کے شہداء سے بھی کہیں زیادہ ہے جو اس منظم دہشت گردی کے حجم کی خطرناک علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل بھوک مسلط کرنے، ناقص خوراک فراہم کرنے اور جسمانی و نفسیاتی تشدد جیسی سفاکانہ پالیسیوں کے ذریعے اسیران کو نشانہ بنا رہا ہے۔

مروان الاقرع نے فلسطینی عوام عرب اور اسلامی امت اور دنیا کے آزاد انسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری نبھائیں اسیران کے ساتھ ہونے والے مظالم کو مستقل بنیادوں پر اجاگر کریں اور ان کے قضیہ کو ترجیحات کی فہرست میں اولین مقام دیں تاکہ ان کی آواز دنیا تک پہنچ سکے اور قابض اسرائیل کے جرائم کا خاتمہ ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ روز ایک میڈیا مہم کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد قابض اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کو پھانسی دیے جانے سے قبل ان کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ یہ مہم قابض اسرائیل کی جانب سے ایسے قانون کی منظوری کی کوششوں کے ساتھ شروع کی گئی ہے جو فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کی اجازت دیتا ہے۔

اس مہم کے تحت دنیا بھر کے مختلف دارالحکومتوں اور شہروں میں میدانی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا جن میں سرخ ربن آویزاں کرنا، عوامی چوراہوں میں اسیران کی تصاویر بلند کرنا شامل ہے جبکہ اس تحریک کا نقطہ عروج رواں ماہ 31 جنوری کو ہوگا۔

مہم کے منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ اسیران کی آواز کو ایک اجتماعی رجحان میں تبدیل کیا جائے جو میڈیا پر چھا جائے اور دنیا کو قید خانوں کے اندر ہونے والی سفاکیت دکھانے پر مجبور کر دے۔ انہوں نے یکجہتی کے اظہار کے لیے پروفائل تصاویر تبدیل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا جن پر سرخ ربن اور فلسطین کا پرچم نمایاں ہو۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan