Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ارض فلسطین پر صہیونی ریاست کا غیر قانونی الحاق، نقشوں میں واضح قبضہ

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض صہیونی حکومت اب فیصلوں کی محتاج نہیں رہی۔ اس نے الحاق کو کاغذ پر اتار دیا ہے، نقشوں میں سمو دیا ہے اور سڑکوں، بستیوں اور رنگوں کے ذریعے فلسطینی سرزمین کا فیصلہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ وہ قبضہ ہے جو کسی اعلان کا محتاج نہیں، کیونکہ بندوق کے سائے میں کھینچی گئی ہر لکیر خود ایک فیصلہ بن جاتی ہے۔

یہاں الحاق کسی پارلیمانی قرارداد سے نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت مکمل ہو جاتا ہے جب فلسطینی زمین کو نقشے میں صہیونی رنگ سے ڈھانپ دیا جائے، جب ایک نئی سڑک کسی بستی کو دوسری بستی سے جوڑ دے اور جب فلسطینی گاؤں ایک سفید خالی جگہ میں بدل دیا جائے۔

زمین کو جوڑنا، فلسطینی وجود کو توڑنا

صہیونی منصوبہ بندی کا مقصد یہودی بستیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا نہیں، بلکہ فلسطینی جغرافیہ کو چیرنا ہے۔ صہیونی بستیاں ایک مربوط جال کی صورت اختیار کر رہی ہیں، جبکہ فلسطینی شہر اور دیہات ایک دوسرے سے کاٹ دیے گئے ہیں۔

زمین پر ایک ایسی حقیقت مسلط کی جا رہی ہے جس میں صہیونی آبادکار کے لیے سفر ہموار اور فلسطینی کے لیے زندگی دشوار ہو۔ فلسطینی کسان کے کھیت کے بیچ سے گزرتی سڑک، اس کے لیے ترقی نہیں بلکہ اس کی جڑوں پر کلہاڑا ہے۔

خاموش الحاق، کھلا ظلم

قابض اسرائیل جانتا ہے کہ کھلا الحاق عالمی شور کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے اس نے خاموشی کو ہتھیار بنایا ہے۔ کوئی اعلان نہیں، کوئی تاریخ نہیں، کوئی دستخط نہیں، مگر ہر دن ایک نیا استیطانی بلاک، ایک نئی بستی، ایک نیا نقشہ فلسطینی سرزمین کو نگل لیتا ہے۔

یہ وہ ظلم ہے جو شور نہیں مچاتا، مگر نسلوں کو بے گھر کر دیتا ہے۔ یہ وہ سفاکیت ہے جو سرخیوں میں کم آتی ہے، مگر زمین پر سب سے گہرا زخم لگاتی ہے۔

فلسطینی شناخت کے گرد گھیرا

یہ قبضہ صرف زمین کا نہیں، شناخت کا بھی ہے۔ فلسطینی جغرافیے کو اس انداز میں توڑا جا رہا ہے کہ نہ کوئی متصل ریاست باقی رہے، نہ کوئی باوقار مستقبل۔ ہر بستی ایک کیل ہے، ہر سڑک ایک زنجیر اور ہر نقشہ فلسطینی خواب کے گرد ایک نیا حلقہ ہے۔

دیہات محصور ہو رہے ہیں، شہر گھٹن کا شکار ہیں اور فلسطینی اپنے ہی وطن میں اجازت ناموں کے محتاج بنائے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو مستقل کمزور، منقسم اور بے اختیار رکھنا ہے۔

نقشوں کی بے حسی
نقشے بناتے وقت آنسو نظر نہیں آتے۔ان میں ماں کی فریاد شامل نہیں ہوتی،ان میں بچے کا سکول، کسان کا کھیت، شہید کی قبر یا صدیوں پرانی یادیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ نقشے صرف زمین دیکھتے ہیں، انسان نہیں اور یہی صہیونی منصوبہ بندی کی سب سے بڑی سفاکیت ہے۔

بندوق کے سائے میں مستقبل کا فیصلہ

یہ سب کچھ اس یقین کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ دنیا اس مسلط کردہ حقیقت کو مان لے گی۔ جب نقشے مکمل ہو جائیں گے، جب بستیاں جڑ جائیں گی، جب فلسطینی جغرافیہ ٹوٹ جائے گا، تو پھر مذاکرات محض ایک رسمی اور بے معنی مشق رہ جائیں گے۔

یہ وہ لمحہ ہے جہاں فلسطین صرف زمین نہیں کھو رہا، بلکہ اپنے وجود کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اور یہ جنگ نقشوں پر لڑی جا رہی ہے، مگر اس کی قیمت فلسطینی خون، آنسو اور نسلیں ادا کر رہی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan