غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریکِ مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے زور دے کر کہا ہےکہ مجرم قابض صہیونی ریاست اسرائیل نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے باسیوں کے خلاف قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جہاں شہری گھروں اور نہتے فلسطینیوں کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو سیز فائر کے معاہدے کی بار بار اور کھلی خلاف ورزی ہے۔
حازم قاسم نے آج جمعہ کے روز زور دے کر کہا کہ یہ خطرناک اشتعال انگیزی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ثالثوں نے ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام اور معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخلے کا اعلان کیا، اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے نام نہاد امن کونسل کے قیام کے اعلان کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہے کہ قابض اسرائیلی حکومت سیز فائر کے معاہدے کو سبوتاژ کرنے اور غزہ میں امن و سکون کے قیام کی تمام اعلانیہ کوششوں کو ناکام بنانے کی پالیسی پر بدستور کاربند ہے۔
حازم قاسم نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی یہ مسلسل خلاف ورزیاں ثالثوں اور ان ضامن ممالک کے لیے، جنہوں نے شرم الشیخ کانفرنس میں شرکت کی تھی، ایک کڑا امتحان ہیں، تاکہ وہ قابض دشمن پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی جارحیت بند کرے اور طے شدہ معاہدے کی پابندی کرے۔
قبل ازیں سرکاری میڈیا دفتر نے بتایا تھا کہ قابض اسرائیل نے 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر کے فیصلے کے نفاذ کے بعد سے اب تک معاہدے کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح پامالی، سیز فائر کی روح کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے اور اس سے منسلک انسانی پروٹوکول کی شقوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔
