غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں الحولی خاندان کے گھر پر کیا گیا نیا حملہ ایک سنگین اور کھلی خلاف ورزی ہے جو سیز فائر معاہدے کی مسلسل پامالی کو ثابت کرتا ہے۔ حماس نے اس امر پر زور دیا کہ قابض اسرائیل اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا بلکہ دانستہ طور پر اسے سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف دوبارہ نسل کش جنگ کا آغاز کیا جا سکے۔
حماس نے جمعرات کی شام جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ یہ گھناؤنا جرم اور غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں جاری مسلسل جارحیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگی مجرم بنجمن نیتن یاھو سیز فائر معاہدے کو حقیر جانتا ہے جو امریکی سرپرستی اور ثالثوں کی ضمانت کے تحت طے پایا تھا۔
حماس نے مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل کو سیز فائر معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے اور اس کی تمام شقوں پر مکمل طور پر عمل کیا جائے جس میں معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی بھی شامل ہے۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے لیے اس جرم اور دیگر تمام جرائم کی واضح مذمت ضروری ہے اور ثالثوں کو مؤثر اور عملی کردار ادا کرتے ہوئے قابض اسرائیل کو معاہدے کا احترام کرنے پر مجبور کرنا چاہیے اور اسے معاہدہ ناکام بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
میدانی صورتحال کے تناظر میں جمعرات کے روز قابض اسرائیل کی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں وسطی اور جنوبی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں سات فلسطینی شہید اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
قابض فوج نے دیر البلح کیمپ میں شہر کے مغرب میں الحولی خاندان کے ایک گھر کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عمارت مکینوں پر گر گئی اور چار شہری شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اس دوران ایمبولینس اور سول ڈیفنس کے عملے نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شہداء کی لاشیں نکالیں اور زخمیوں کو منتقل کیا۔
غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح شہر کے المواصی علاقے کے جنوب میں واقع العلم چوک کے قریب قابض فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی شہید ہو گئے تاہم علاقے کی خطرناک صورتحال کے باعث ان کی لاشوں تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
اس سے قبل آج کے روز شمالی غزہ کی پٹی میں بلدہ جبالیا کے ان علاقوں میں جہاں سے قابض فوج پسپا ہوئی تھی ایک فلسطینی بچی قابض فوج کی گولی کا نشانہ بن کر زخمی ہو گئی۔ یہ واقعہ اس سیز فائر معاہدے کے باوجود پیش آیا جو دسویں اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔
یہ تمام واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جب قابض اسرائیل کی فوج مسلسل ستانوےویں روز بھی غزہ کی پٹی پر مسلط جارحانہ جنگ کے خاتمے اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور گھروں اور رہائشی عمارتوں کی مسماری کے ساتھ توپ خانے اور فضائی بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جارحانہ جنگ جو سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہوئی تھی اس کے خاتمے اور سیز فائر کا معاہدہ عرب اور امریکی ثالثی کے نتیجے میں دس اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ ہوا۔
اسی تناظر میں مصر قطر اور ترکیہ نے گذشتہ بدھ کی شام ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے قائم کی جانے والی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل مکمل ہو چکی ہے جس کی سربراہی علی شعث کر رہے ہیں۔ بیان میں اس اقدام کو استحکام کے قیام اور غزہ کی پٹی میں انسانی حالات کی بہتری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
