نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اس امر پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں تباہی کے پہاڑ بنے ملبے کو ہٹانے کے لیے بھاری مشینری کی فوری اور ناگزیر ضرورت ہے۔
گوتیریس کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ غزہ میں ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری آلات کی فراہمی اشد ضروری ہے مگر افسوسناک طور پر ایسے آلات کو غزہ میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینی اب بھی حالیہ شدید موسمی طوفانوں کے تباہ کن اثرات کا سامنا کر رہے ہیں اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے ان کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔
اسی تناظر میں گوتیریس نے غزہ میں سیز فائر معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی امداد کی ترسیل بغیر کسی رکاوٹ کے یقینی بنائی جانی چاہیے تاکہ محصور فلسطینی عوام کی جان بچانے والی ضروریات پوری ہو سکیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ غزہ میں سیز فائر معاہدے پر مکمل اور دیانت دارانہ عمل درآمد ناگزیر ہے جو بین الاقوامی قانون کے مطابق دو ریاستی حل کی جانب ایک ناقابلِ واپسی راستہ ہموار کر سکتا ہے۔
