(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی انجینئر علی عبد الحمید شعث کا نام فلسطین میں منصوبہ بندی اور ترقی کے نمایاں چہروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کا طویل پیشہ ورانہ سفر سرکاری خدمات، انتظامی قیادت اور ترقیاتی مشاورت کے امتزاج سے عبارت ہے جس نے قومی تعمیر نو کے عمل میں گہری چھاپ چھوڑی۔
علی شعث کا تعلق غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس سے ہے۔ گذشتہ دنوں انہیں فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک کمیٹی کی سربراہی سونپی گئی ہے جسے قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی وسیع تباہی کے بعد کے مرحلے میں غزہ پٹی کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ سفاک جنگ سنہ 2023ء میں شروع ہوئی تھی جس نے غزہ کو کھنڈر بنا دیا۔
اپنے پیشہ ورانہ سفر کے دوران علی شعث نے فلسطینی شہروں اور صنعتی علاقوں کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے قومی معیشت کی معاون ترقیاتی پالیسیوں کی تشکیل میں حصہ لیا اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کی خدمت کے لیے صنعتی شعبے کی تقویت اور اطلاقی تحقیق کے فروغ کی خاطر تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط میں بھی کردار ادا کیا۔
پیدائش اور تعلیمی تشکیل
علی عبد الحمید شعث سنہ 1958ء میں خان یونس گورنری میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سنہ 1982ء میں قاہرہ کی جامعہ عین شمس سے سول انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور پھر سنہ 1986ء میں اسی شعبے میں ماسٹرز مکمل کیا۔
بعد ازاں سنہ 1989ء میں انہوں نے برطانیہ کی کوئنز یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی جس میں ان کی توجہ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور شہری ترقی پر مرکوز رہی۔
پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی سفر
علی شعث نے فلسطینی قومی اتھارٹی کے مختلف اہم اداروں میں نمایاں مناصب سنبھالے تاہم وہ کسی براہ راست جماعتی وابستگی کے بغیر خدمات انجام دیتے رہے۔ انہیں وزارت منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون کا نائب وزیر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے اتھارٹی کے ابتدائی قیام کے مراحل میں اسٹریٹجک ترقیاتی منصوبوں کی تیاری میں حصہ لیا۔
وہ وزارت ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے سیکریٹری بھی رہے اور اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور سڑکوں کے نیٹ ورک پر عمل درآمد کی نگرانی کی۔
بعد ازاں انہوں نے فلسطینی صنعتی شہروں کی جنرل اتھارٹی کی سربراہی کی اور سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے صنعتی زونز کے انتظام اور ترقی میں کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ وہ فلسطینی ہاؤسنگ کونسل اور فلسطینی پورٹس اتھارٹی کے سربراہ بھی رہے جہاں انہوں نے ہاؤسنگ اور بندرگاہوں کے شعبوں کی تنظیم اور ترقی میں حصہ لیا۔
مشاورتی میدان میں انہوں نے فلسطینی ترقی اور تعمیر نو کے ادارے بکدار کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں جبکہ وزیر ہاؤسنگ اور عوامی تعمیرات کے مشیر بھی رہے۔
سیاسی کردار اور جنگ کے بعد کا مرحلہ
سیاسی طور پر علی شعث کی موجودگی سنہ 2005ء میں حتمی حیثیت کے مذاکراتی عمل میں نمایاں رہی جہاں انہوں نے سرحدوں اور بحری گزرگاہوں سے متعلق فائلوں پر توجہ مرکوز رکھی۔
اقتصادی ترقی اور تعمیر نو کے شعبوں میں ان کے وسیع تجربات نے انہیں اس قابل بنایا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے مقرر کی گئی فلسطینی ٹیکنوکریٹس کمیٹی کی قیادت سنبھال سکیں۔
14 جنوری 2026ء کو جمہوریہ مصر ، ریاست قطر اور جمہوریہ ترکیہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ علی شعث کی سربراہی میں غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے ٹیکنوکریٹس کمیٹی کی تشکیل مکمل ہو چکی ہے۔ ان ممالک نے اس پیش رفت کو غزہ میں استحکام کی حمایت اور انسانی حالات کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔
ثالثوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کمیٹی کی تشکیل غزہ میں سیز فائر کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرے گی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق ہے۔ اس اقدام سے کشیدگی کے استحکام اور نئے تصادم کی روک تھام میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ یہ پیش رفت 9 اکتوبر 2025ء کو شرم الشیخ میں اسی منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کے اعلان کے بعد سامنے آئی۔
