غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کی جنگ کے اثرات صرف فوری انسانی بحران تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے فلسطینی عوام کے مستقبل اور آبادیاتی وجود کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شرحِ پیدائش میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور تولیدی صحت کی دیکھ بھال کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین نے انسانی حقوق کی رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں شرحِ پیدائش میں 41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اسقاطِ حمل اور قبل از وقت ولادت کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والوں نے اس صورتحال کو تولیدی تشدد کی پالیسی قرار دیا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو نسل بڑھانے سے روکنا ہے اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق نسل کشی کے جرم کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس نے شکاگو یونیورسٹی کے لا اسکول کے عالمی انسانی حقوق کے شعبے کے اشتراک سے تیار کردہ دو رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ جنوری سے جون سنہ 2025ء کے دوران تقریباً 2600 اسقاطِ حمل کے کیسز، حمل سے جڑی 220 اموات اور 1460 قبل از وقت پیدائشیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 1700 سے زائد بچے کم وزن کے ساتھ پیدا ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی عرصے میں تقریباً 2500 نوزائیدہ بچوں کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑی مگر انکیوبیٹرز مکمل استعداد کے ساتھ کام نہ کر سکے کیونکہ قابض اسرائیل کی بمباری، ایندھن کی قلت اور طبی سامان کی شدید کمی نے ہسپتالوں کو مفلوج کر دیا تھا۔
گارڈین کے مطابق اکتوبر سنہ 2023ء میں جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ کا صحت کا نظام منظم انداز میں تباہ کیا گیا۔ ہسپتالوں پر بمباری کی گئی، ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا گیا اور طبی عملہ شہید اور زخمی ہوا جس کے نتیجے میں زچگی ایک جان لیوا مرحلہ بن چکی ہے جہاں ماں یا بچہ کسی بھی لمحے جان کی بازی ہار سکتا ہے۔
گنجان آباد کیمپوں میں حاملہ خواتین کو نہایت کٹھن حالات کا سامنا ہے۔ خوراک کی شدید قلت، طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور مسلسل بمباری کا خوف انکی زندگیوں کو عذاب بنا چکا ہے۔
گارڈین نے اپنے نامہ نگار لورینزو ٹوندو کے حوالے سے خواتین کی شہادتیں نقل کیں جنہوں نے بتایا کہ مسلسل فضائی حملوں کے باعث ذہنی دباؤ زچگی کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتا ہے اور صحت کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔
رفح سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اخبار کو بتایا کہ جب اسے اپنے حمل کا علم ہوا تو وہ صدمے سے دوچار ہو گئی کیونکہ بمباری کے دوران خوف کے باعث زچگی کے انقباضات رک جاتے تھے جس کے نتیجے میں شدید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور اسے طویل عرصہ ہسپتال میں علاج کروانا پڑا۔
اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین نے اندازہ لگایا ہے کہ جنگ کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 6 ہزار سے زائد مائیں شہید ہوئیں یعنی اوسطاً ہر گھنٹے میں دو خواتین جان سے گئیں جبکہ تقریباً 150 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو جبری طور پر نقل مکانی کرنا پڑی۔
رپورٹس میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ تولیدی صحت کے مراکز کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا جن میں دسمبر سنہ 2023ء میں البسمہ تولیدی مرکز پر بمباری شامل ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 5 ہزار تولیدی نمونے تباہ ہو گئے اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے درجنوں ماہانہ عمل رک گئے۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے اس حملے کو دانستہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کہا۔
اگرچہ سیز فائر پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے مگر غارديان کے مطابق غزہ کی انسانی صورتحال بدستور نہایت نازک ہے۔ شدید سردی کے باعث بچوں کی اموات ہو رہی ہیں، موسم سرما کے طوفانوں سے بے دخل افراد کے خیمے تباہ ہو رہے ہیں اور مائیں بھوک، خوف اور اپنے پیاروں کے کھو جانے کے کرب میں مبتلا ہیں۔
اخبار نے ایک اقوام متحدہ کی کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ غزہ میں تولیدی صحت کے نظام کی تباہی، اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات، جبری اسقاطِ حمل اور شرحِ پیدائش میں شدید کمی ان بنیادی اسباب میں شامل ہیں جن کی بنیاد پر کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ قابض اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔
