Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں سیز فائر کی سنگین خلاف ورزیاں جاری

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں حکومتی میڈیا دفتر نے بتایا ہے کہ قابض اسرائیل نے 10 اکتوبر 2025ء کو سیز فائر کے فیصلے کے نفاذ سے لے کر آج جمعرات 15 جنوری 2026ء کی صبح تک یعنی 95 دنوں کے دوران معاہدے کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی پامالی ہیں اور سیز فائر کی روح اور اس سے منسلک انسانی پروٹوکول کی شقوں کو جان بوجھ کر کھوکھلا کرنے کے مترادف ہیں۔

خلاف ورزیاں

دفتر نے جمعرات کو جاری بیان میں واضح کیا کہ متعلقہ سرکاری اداروں نے معاہدے کی 1244 خلاف ورزیوں کا ریکارڈ مرتب کیا جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

402 براہ راست فائرنگ کے جرائم جو نہتے شہریوں کو نشانہ بناتے رہے۔
66 فوجی گاڑیوں کی رہائشی علاقوں میں دراندازی کے جرائم۔
581 بمباری اور نہتے شہریوں اور ان کے گھروں کو نشانہ بنانے کے جرائم۔
195 گھروں اداروں اور شہری عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہ کرنے کے جرائم۔

بیان میں بتایا گیا کہ ان منظم خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 449 شہری شہید ہوئے جن کی لاشیں ہسپتالوں تک پہنچ سکیں جبکہ 1246 افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ قابض اسرائیلی افواج نے 50 شہریوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار بھی کیا۔

انسانی پہلو

انسانی صورتحال کے حوالے سے حکومتی میڈیا دفتر نے زور دیا کہ غزہ پٹی سست روی سے جاری اجتماعی نسل کشی کا سامنا کر رہی ہے۔ قابض اسرائیل معاہدے اور انسانی پروٹوکول میں درج اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل پہلو تہی کر رہا ہے اور طے شدہ امداد کی کم از کم مقدار تک پہنچانے کا بھی پابند نہیں رہا۔

دفتر نے نشاندہی کی کہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران 95 دنوں میں غزہ کی پٹی میں صرف 24,611 امدادی ٹرک داخل ہو سکے حالانکہ 57,000 ٹرکوں کا داخلہ طے پایا تھا۔ یومیہ اوسط صرف 259 ٹرک رہی جبکہ معاہدے کے مطابق روزانہ 600 ٹرک داخل ہونا تھے۔ اس طرح قابض اسرائیل نے محض 43 فیصد تک عمل کیا جس کے باعث خوراک ادویات پانی اور ایندھن کی شدید قلت برقرار رہی اور غزہ میں انسانی المیے کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض اسرائیل جن غذائی اشیا کو داخل ہونے دیتا ہے ان میں سے زیادہ تر کی غذائی افادیت نہایت کم ہے جبکہ غذائیت سے بھرپور اور ضروری خوراک کی رسائی روکی جا رہی ہے۔ یہ امر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قابض اسرائیل دانستہ طور پر بھوک اور پیاس کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے منظم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ایندھن کے بارے میں بتایا گیا کہ اسی مدت کے دوران غزہ کی پٹی میں صرف 601 ایندھن کے ٹرک داخل ہوئے جبکہ 4,750 ٹرکوں کا داخلہ طے تھا۔ یومیہ اوسط محض 6 ٹرک رہی حالانکہ معاہدے کے تحت روزانہ 50 ٹرک مخصوص تھے یعنی عمل درآمد کی شرح تقریباً 12 فیصد رہی۔ اس صورتحال نے ہسپتالوں بیکریوں پانی اور نکاسی آب کے مراکز کو تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا اور شہری آبادی کی اذیت میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔

پناہ اور رہائش

رہائش کے شعبے کے حوالے سے حکومتی میڈیا دفتر نے ایک بار پھر غزہ میں غیر معمولی اور گہرے انسانی بحران کے بگڑتے خدشات سے خبردار کیا۔ قابض اسرائیل سرحدی گزرگاہیں بند رکھے ہوئے ہے اور متحرک مکانات کیبنز خیمے اور پلاسٹک شیٹس سمیت رہائشی سامان کے داخلے سے انکار کر رہا ہے جو معاہدے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

دفتر نے کہا کہ یہ ظالمانہ پالیسیاں اس وقت اختیار کی جا رہی ہیں جب موسم سرما کے آغاز کے ساتھ شدید موسمی دباؤ غزہ پٹی سے ٹکرا رہے ہیں۔ ان حالات میں 50 سے زائد مکانات اور عمارتیں جو پہلے ہی بمباری سے متاثر تھیں منہدم ہو گئیں جس کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے اصل گھروں کی تباہی کے بعد انہی خستہ حال عمارتوں میں پناہ لی تھی جبکہ کوئی محفوظ متبادل موجود نہ تھا۔

بیان میں خیموں میں رہنے والے بے گھر افراد میں شدید سردی کے باعث اموات کی بھی اطلاع دی گئی۔ اس دوران 127,000 سے زائد خیمے ناکارہ ہو چکے ہیں اور ڈیڑھ ملین سے زیادہ بے گھر افراد کے لیے کم از کم تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ شدید سردی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جو اس دانستہ غفلت کے جاری رہنے کی صورت میں مزید اموات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

حکومتی میڈیا دفتر نے زور دے کر کہا کہ ان خلاف ورزیوں اور جارحانہ اقدامات کا تسلسل سیز فائر کو سبوتاژ کرنے کی خطرناک کوشش ہے اور ایک ایسی انسانی مساوات مسلط کی جا رہی ہے جو جبر بھوک اور بلیک میلنگ پر مبنی ہے۔ دفتر نے قابض اسرائیل کو انسانی صورتحال میں مسلسل بگاڑ شہادتوں اور املاک کی تباہی کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا خاص طور پر ایسے وقت میں جب مکمل اور پائیدار سیز فائر نافذ ہونا چاہیے تھا۔

دفتر نے امریکی صدر ٹرمپ معاہدے کے ضامن ممالک ثالثوں اور عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں اور قابض اسرائیل کو اس کے تمام وعدوں پر بغیر کسی کمی کے عمل درآمد پر مجبور کریں۔ ساتھ ہی شہریوں کے تحفظ فوری اور محفوظ امدادی رسائی ایندھن کی فراہمی متحرک مکانات کیبنز اور رہائشی سامان کے داخلے کو یقینی بنایا جائے تاکہ غزہ پٹی میں بگڑتے انسانی المیے کا حقیقی حل ممکن ہو سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan