مقبوضہ القدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس گورنری نے قابض اسرائیل کی جانب سے حالیہ خطرناک اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نام نہاد اسرائیلی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی وہ سفارشات جن کے تحت آئندہ ماہِ رمضان میں مغربی کنارے سے آنے والے نمازیوں کی القدس شہر اور مسجد اقصیٰ تک رسائی محدود کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے عبادت کی آزادی پر کھلا حملہ اور واقعات سے پہلے دانستہ جابرانہ قدم ہے۔
گورنری نے منگل کے روز جاری بیان میں وضاحت کی کہ ان سفارشات میں نمازیوں کے داخلے پر عددی اور طبقاتی پابندیاں عائد کرنا شہریوں کی گرفتاریاں اور ان کا تعاقب شامل ہے جو ایسے پیشگی منصوبوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد القدس پر کنٹرول مزید سخت کرنا اور مغربی کنارے اور غزہ سے آنے والے فلسطینیوں کے بنیادی دینی حقوق پر مزید قدغنیں لگانا ہے۔ گورنری نے خبردار کیا کہ ان سفارشات کو عملی شکل دینا زمینی حقائق مسلط کرنے کے مترادف ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب مسجد اقصیٰ پر آبادکاروں کے دھاوے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور قابض اسرائیلی حکام کی براہ راست سرپرستی میں بے مثال خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ گورنری نے نشاندہی کی کہ اکتوبر سنہ 2023ء سے پابندیاں دوگنی کر دی گئی ہیں جن میں پیچیدہ اجازت نامے اور سخت عمر کی شرائط شامل ہیں جس کے باعث لاکھوں فلسطینی مسجد اقصیٰ تک پہنچنے سے محروم ہو چکے ہیں اور صرف نہایت محدود تعداد کو ہی داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
القدس گورنری نے یاد دلایا کہ مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینی ماہِ رمضان کو القدس میں داخل ہونے کے ایک نادر موقع کے طور پر دیکھتے آئے ہیں کیونکہ قابض اسرائیل پورے سال کی اکثریت میں انہیں شہر میں داخلے سے روکے رکھتا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ رمضان سنہ 2024ء اور سنہ 2025ء کے دوران غیر معمولی پابندیاں نافذ کی گئیں جن کے تحت القدس میں داخل ہونے والے نمازیوں کی تعداد ہفتہ وار صرف دس ہزار مقرر کی گئی اور وہ بھی صرف جمعہ کے دن۔ اس کے ساتھ مشکل سے حاصل ہونے والے اجازت ناموں اور مقناطیسی کارڈز کو لازمی قرار دیا گیا جبکہ مردوں عورتوں اور بچوں پر سخت عمر کی پابندیاں لگائی گئیں اور نمازیوں کو شام سے پہلے زبردستی واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ جزوی طور پر خالی ہو گئی اور جمعہ کی نماز میں نمازیوں کی تعداد اکتوبر سنہ 2023ء سے پہلے کے تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار سے گھٹ کر رمضان سنہ 2025ء کے دوسرے جمعہ کو صرف اسی ہزار رہ گئی۔
گورنری نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیل نے پہلی مرتبہ سنہ 2014ء کے بعد جمعہ اور ہفتے کی راتوں میں مسجد اقصیٰ میں اعتکاف پر پابندی عائد کی اور معتکفین کو طاقت کے زور پر نکال دیا جس سے مسجد پر غیر معمولی کنٹرول مسلط ہوا اور پابندیوں کو مزید پختہ کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ القدس میں امتیازی پالیسیاں اس طرح بھی سامنے آتی ہیں کہ یہودی تہواروں اور مواقع کے دوران فلسطینی محلوں اور مرکزی سڑکوں کو بند کر دیا جاتا ہے تاکہ سیکڑوں ہزار آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ دیوارِ براق اور بلدہ قدیمہ کے اطراف تک آسان رسائی دی جا سکے جبکہ اسلامی اور مسیحی تہواروں بالخصوص ماہِ رمضان میں فلسطینیوں پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جاتی ہیں جس سے پورا شہر ایک بند فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور مسجد اقصیٰ اور بلدہ قدیمہ کے دروازوں پر کڑی تلاشی کا نظام نافذ کر دیا جاتا ہے۔
القدس گورنری نے مزید کہا کہ ان پالیسیوں میں آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملے بھی شامل ہیں اور مسیحیوں کو کلیسہ قیامہ تک رسائی سے روکنا بھی انہی اقدامات کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کے اندر بے مثال پابندیاں لگائی گئیں جن میں نمازوں کے دوران قابض اسرائیلی پولیس کی مستقل موجودگی نمازیوں اور اعتکاف کی خیمہ گاہوں کی سخت تلاشی اور بغیر اجازت مسجد میں داخل ہونے والے ہر فرد کی گرفتاری شامل ہے۔
گورنری نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدامات صرف عبادت کی آزادی کو ہی پامال نہیں کرتے بلکہ القدس کی معاشی سرگرمیوں پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں بالخصوص رمضان سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے جس سے شہر کے رہائشیوں پر سماجی اور معاشی بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔
القدس گورنری نے واضح کیا کہ یہ پالیسیاں قابض اسرائیل کے اس مسلسل منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد القدس کو اس کے فلسطینی ماحول سے کاٹنا اور اس کی تاریخی قانونی اور سیاسی حیثیت پر زبردستی تبدیلیاں مسلط کرنا ہے۔ ان میں مسجد اقصیٰ کو زمانی اور مکانی طور پر تقسیم کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں تاکہ بالآخر اس کی جگہ نام نہاد ہیکل مسلط کیا جا سکے۔
بیان کے اختتام پر القدس گورنری نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام اقدامات بین الاقوامی قانون عبادت کی آزادی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ گورنری نے ان کے تمام نتائج کی مکمل ذمہ داری قابض اسرائیلی حکام پر عائد کرتے ہوئے عالمی برادری انسانی حقوق کے اداروں اور ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں ان خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے عملی اقدامات کریں اور مسجد اقصیٰ کلیسہ قیامہ اور شہر کے تمام مقدسات تک آزادانہ رسائی کو یقینی بنائیں۔
