Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں امدادی نظام زمین بوس، شہری زندگیاں خطرے میں: بلدیہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنگ کے آغاز کے بعد گذشتہ دو برسوں میں غزہ کی پٹی کو درپیش بدترین راتوں میں سے ایک رات کے دوران بلدیہ غزہ کے سربراہ یحییٰ السراج نے خبردار کیا ہے کہ شدید موسمی طوفان کے مقابلے میں وسائل کی شدید کمی انسانی المیے کو مزید گہرا کر رہی ہے، جب کہ جنگ اور محاصرے کے باعث بنیادی خدمات کا نظام منہدم اور ادارہ جاتی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

یحییٰ السراج نے کہا کہ ریسکیو اور ایمرجنسی کے عملے رات کے ابتدائی گھنٹوں سے ہی سیلابی ریلوں کے دباؤ اور تیز آندھی کے بعد پھیلنے والے کوڑے کرکٹ کے مقابلے میں عملاً بے بس ہو کر کام کر رہے ہیں۔ ایندھن، گاڑیوں اور آلات کی شدید قلت برقرار ہے، جب کہ غزہ کی بلدیات اپنے 85 فیصد سے زائد آلات پہلے ہی کھو چکی ہیں۔

انہوں نے الجزیرہ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ بارش کے پانی کی نکاسی کے نالوں کی بندش اور نشیبی علاقوں میں پانی کے جمع ہونے نے ایمرجنسی ٹیموں کے کام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بے گھر افراد کے لیے نصب خستہ حال خیمے سردی اور بارش سے کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کر پا رہے، جس کے باعث ہزاروں خاندانوں کی تکالیف میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

یحییٰ السراج نے زور دے کر کہا کہ گذشتہ شب تباہ شدہ گھروں کے منہدم ہونے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ان میں ایک شیر خوار بچہ بھی شامل ہے جو وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں اپنے خیمے کے اندر شدید سردی کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔ یہ المیہ موسمی آفت اور امدادی و ہنگامی صلاحیتوں کی کمی کے خطرناک امتزاج کو نمایاں کرتا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ میں طبی صورت حال بھی انتہائی تاریک ہوتی جا رہی ہے۔ ادویات کی قلت، طبی عملے اور ایندھن کی کمی کے باعث معمولی بیماریاں بھی مریضوں کی جان کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، ایسے میں بنیادی علاج اور ہنگامی طبی سہولیات تک میسر نہیں۔

بلدیہ غزہ کے سربراہ نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ بلدیاتی ادارے حتیٰ کہ سول ڈیفنس بھی اپنی محدود صلاحیتوں کے باعث بڑھتی ہوئی مدد کی اپیلوں کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔

یہ سنگین صورت حال اس وقت مزید خطرناک ہو جاتی ہے جب قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایندھن اور رہائشی سامان جیسے تیار شدہ مکانات اور سیمنٹ کی ترسیل پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اس کے باوجود کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے، تقریباً 24 لاکھ فلسطینی جنگ اور محاصرے کے تباہ کن اثرات کے تحت اذیت ناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اسی تناظر میں عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں 18 ہزار 500 سے زائد افراد، جن میں 4 ہزار بچے شامل ہیں، اب بھی فوری طبی انخلا کے منتظر ہیں۔ ادارے نے مزید ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ مریضوں کو قبول کریں، کیونکہ غزہ کے اندر علاج کی صلاحیت تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔

یحییٰ السراج نے عالمی برادری سے فوری اور سنجیدہ اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو اجتماعی اذیت دینے کے اس طریقہ کار کو روکا جائے اور جان بچانے والا سامان غزہ میں داخل ہونے دیا جائے، اس سے پہلے کہ سردی اور بارش مزید بے گناہ جانیں نگل لے۔

امریکی حمایت سے قابض اسرائیل نے سنہ 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ میں اجتماعی نسل کشی کی جنگ مسلط کر رکھی ہے جو دو برس سے جاری ہے۔ اس دوران 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 171 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔

اگرچہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی بنیاد پر جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے، تاہم قابض اسرائیل اب بھی خوراک، ادویات، طبی سامان اور رہائشی مواد کی غزہ میں ترسیل پر سخت قدغنیں عائد کیے ہوئے ہے، جس کے باعث 24 لاکھ فلسطینی بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan