غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ شہر میں پیر کی شام قابض اسرائیلی بمباری سے متاثرہ عمارتوں کے منہدم ہونے کے نتیجے میں چار فلسطینی شہری شہید ہو گئے جن میں دو خواتین اور ایک بچی شامل ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ غزہ شہر کے مغربی علاقے الشالیہات میں پیش آیا جہاں شدید ہواؤں کے باعث ایک شادی ہال زمین بوس ہو گیا جو بے گھر فلسطینیوں کے لیے عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں 15 سالہ بچی ریماس بلال حمودہ 42 سالہ دعا منصور حمودہ اور 72 سالہ بزرگ محمد العبد حمودہ شامل ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ حادثہ الشالیہات کے قریب واقع اورگنزا ہال کی عمارت کے ایک حصے کے گرنے سے پیش آیا جو قابض اسرائیل کی گذشتہ بمباری میں شدید طور پر متاثر ہو چکی تھی اور تیز ہواؤں اور بارشوں کا سامنا نہ کر سکی۔
اسی دوران 33 سالہ فلسطینی خاتون وفا شرير بھی شہید ہو گئیں جب غزہ شہر کے مغربی حصے میں شارع الثورة کے اطراف قابض اسرائیل کی سابقہ بمباری سے متاثرہ ایک گھر کی دیوار شدید موسمی حالات کے باعث گر گئی۔
ادھر غزہ پٹی کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ شدید سردی کے باعث دو بچے جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد موسم سرما کے آغاز سے اب تک بچوں کی اموات کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ اس موقع پر سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے خبردار کیا کہ منگل سے شروع ہونے والا قطبی کم دباؤ کا نظام تقریباً پندرہ لاکھ فلسطینیوں کے لیے تباہ کن خطرات لے کر آ رہا ہے۔
غزہ میں سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے تصدیق کی کہ حالیہ موسمی نظام کے باعث کمزور اور گرنے کے خطرے سے دوچار عمارتوں کے جزوی انہدام کے نتیجے میں تین اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے اور مسلسل بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث عمارتیں اب شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہیں۔
سول ڈیفنس کے ترجمان نے عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری سے فوری اپیل کی کہ وہ متاثرہ شہریوں کے تحفظ اور امداد کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔
اسی تناظر میں پیر کی شام غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطئ پناہ گزین کیمپ میں قابض اسرائیل کی سابقہ بمباری سے متاثرہ ایک رہائشی عمارت کے منہدم ہونے سے متعدد فلسطینی زخمی ہو گئے۔
یہ عمارت شدید ہواؤں کے ساتھ آنے والے موسمی دباؤ کے باعث گری جس کے نتیجے میں کئی شہری زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تاہم زخموں کی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
گذشتہ دنوں غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں بار بار ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جہاں قابض اسرائیل کی جارحیت سے متاثرہ گھروں اور عمارتوں کے ڈھانچے شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث منہدم ہو رہے ہیں جس سے انسانی المیے میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
اسی سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی تعداد بڑھ کر 71 ہزار 412 ہو گئی ہے جبکہ 171 ہزار 314 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک کے ہیں جبکہ تاحال متعدد لاشیں ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑی ہوئی ہیں۔
مزید یہ کہ 11 اکتوبر گذشتہ سال سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے اب تک 442 فلسطینی شہید اور 1 ہزار 236 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 688 شہداء کی لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔
