(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) پیر کے روز سینکڑوں صہیونی آبادکاروں نے قابض اسرائیلی فوجی سکیورٹی میں القدس شہر میں واقع مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولا اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے ہوئے تلمودی عبادات ادا کیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ 270 سے زائد آبادکار باب المغاربہ کے راستے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور اس کے صحنوں میں اشتعال انگیز تلمودی رسومات ادا کیں۔ یہ تمام کارروائی قابض اسرائیل کی افواج کی مکمل سکیورٹی میں انجام دی گئی۔
فلسطینی وزارت اوقاف و امور دینیہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال کے آغاز سے اب تک مسجد اقصیٰ میں آبادکاروں کی جانب سے 280 مرتبہ دراندازی کی جا چکی ہے۔ ان حملوں کے دوران تلمودی شعائر کو باقاعدگی سے ادا کیا جا رہا ہے جن میں اجتماعی عبادت، شوفار پھونکنا اور مخصوص مذہبی لباس پہن کر اجتماعی عبادات شامل ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں مخصوص مقامات اور متعین اوقات میں انجام دی جاتی ہیں جو مسجد اقصیٰ میں زمانی اور مکانی تقسیم مسلط کرنے کی کھلی کوشش ہے۔
مسجد اقصیٰ کو روزانہ کی بنیاد پر آبادکاروں کی یلغار کا سامنا ہے۔ یہ دراندازیاں قابض حکام کی سرپرستی میں گروہوں کی صورت میں ہوتی ہیں اور دو اوقات میں انجام دی جاتی ہیں، ایک صبح اور دوسری شام، تاکہ مقدس مقام میں جبری طور پر زمانی اور مکانی تقسیم کو حقیقت بنایا جا سکے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل مشرقی القدس کو یہودی رنگ میں رنگنے کی پالیسی پر تیزی سے عمل پیرا ہے، جس میں مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانا سرفہرست ہے، تاکہ اس کی عربی اور اسلامی شناخت کو مٹا دیا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ قابض اسرائیل کی پولیس نے سنہ 2003ء سے یک طرفہ طور پر آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ میں دراندازی کی اجازت دے رکھی ہے، جس کے بعد سال بہ سال دراندازی کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اور تشویشناک اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
