(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قطر کے سابق وزیر اعظم شیخ حمد بن جاسم نے کہا ہے کہ مصر س،عودی عرب ،ترکیہ اور پاکستان پر مشتمل ایک مضبوط اور مؤثر دفاعی اتحاد کی تشکیل ایک ناگزیر اور فوری ضرورت بن چکی ہے۔
شیخ حمد بن جاسم نے اتوار کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ستمبر سنہ 2025ء میں طے پانے والا مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ جس میں ترکیہ کے شامل ہونے کا امکان ہے ان کے نزدیک خطے کے تحفظ اور استحکام کے لیے ایک نہایت اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ عرب اور مسلم دنیا کے تمام وجودوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودیہ، پاکستا، ترکیہ اور مصر اتحاد کا قیام ایک طویل عرصے سے اور آج بھی ہم سب کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں اور مغربی اتحاد خصوصاً امریکہ کی تیزی سے بدلتی ہوئی پالیسیوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے اپنی ریاستی طاقت کو مضبوط بنا سکیں۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ خلیجی ممالک بھی بلا تاخیر اس اتحاد میں شامل ہوں کیونکہ بطور نسبتاً چھوٹی ریاستیں اس میں ان کا بڑا مفاد مضمر ہے۔
شیخ حمد بن جاسم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایسے کسی اتحاد کو ایران کے خلاف دشمنی کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ ایران بھی ایک بڑی مسلم ریاست ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس دفاعی اتحاد کی بنیادیں مضبوط اور اصولی ہونی چاہئیں تاکہ یہ اتحاد دیرپا ثابت ہو اور ہر حال میں مؤثر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا اتحاد ہونا چاہیے جسے دنیا ہر وقت سنجیدگی سے لے نہ کہ صرف اس وقت جب خطہ یا دنیا کسی بحرانی مرحلے سے گزر رہی ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس اتحاد میں شامل تمام ممالک کے درمیان یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ یہ اتحاد ایک وسیع تصور کے تحت کام کرے گا جس میں عسکری معاشی اور سیاسی تمام پہلو شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کی بنیاد مضبوط اصولوں واضح پالیسیوں اور ہر رکن ملک کے لیے قابل عمل اسٹریٹجک اہداف پر ہونی چاہیے تاکہ ماضی کے اعلان دمشق جیسی عجلت میں کیے گئے فیصلوں کی تلخ مثال دوبارہ نہ دہرائی جائے جو سنہ 1990ء میں کویت پر عراق کے قبضے کے دوران بغیر گہرے مطالعے کے سامنے آئی تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت بعض ممالک کی شمولیت کے مقاصد وقتی مالی فوائد تک محدود تھے اور اس میں کوئی طویل المدتی اسٹریٹجک سوچ شامل نہیں تھی۔ اسی لیے انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ اتحاد میں شامل ہر ملک کی عسکری سکیورٹی اور معاشی توقعات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے اور انہیں درست بنیادوں پر استوار کیا جانا چاہیے۔
شیخ حمد بن جاسم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اتحاد میں ایسے ٹھوس ضمانتی اصول شامل ہوں جو رکن ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو روکیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اختلافات کو اتحاد کے منشور اور اس کے اسٹریٹجک مقاصد کے مطابق حل کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی اختلاف سے اتحاد کی بنیادیں کمزور نہ ہوں اور نہ ہی کسی رکن ملک کو نقصان پہنچے۔
