(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بنگلہ دیش کی حکومت نے ہفتہ کے روز غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس میں شمولیت کی خواہش کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات واشنگٹن میں بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمن اور امریکی سفارتکاروں ایلیسن ہوکر اور پال کپور کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش غزہ کے لیے تجویز کردہ اس فورس میں شرکت میں ابتدائی دلچسپی رکھتا ہے تاہم اس شمولیت کی نوعیت اور حجم سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس پیش رفت پر امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ اعلان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جو گذشتہ نومبر کے وسط میں جاری کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت نام نہاد مجلس السلام اور اس کے ساتھ شریک ممالک کو غزہ میں عارضی بین الاقوامی فورس قائم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا تاکہ اس محصور علاقے میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اکتوبر میں شروع ہونے والی سیز فائر عملی طور پر تعطل کا شکار ہے۔
غزہ کی پٹی میں دو ملین سے زائد فلسطینی نہایت کٹھن اور دل دہلا دینے والے انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ فلسطینی عوام خیموں عارضی پناہ گاہوں یا جزوی طور پر تباہ شدہ اور کسی بھی لمحے منہدم ہونے والی عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ سب اس نسل کش جنگ کا نتیجہ ہے جو قابض اسرائیل نے غزہ پر مسلط کی اور جس نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو روند کر رکھ دیا۔
دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” نے ایک بار پھر فلسطینی عوام پر کسی بھی قسم کی سرپرستی یا سامراجی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف کی تجدید کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ امن کونسل کا کردار صرف سیز فائر کے نفاذ کی نگرانی اور تعمیر نو کے عمل کی دیکھ بھال تک محدود ہونا چاہیے۔ غزہ کے داخلی معاملات میں مداخلت یا اس پر کسی سیاسی بندوبست کو مسلط کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
دستیاب معلومات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں کئی اہم اقدامات شامل ہیں جن میں مجلس السلام کا قیام اور بین الاقوامی استحکامی فورس کو اس کا عملی بازو بنانا شامل ہے۔ یہ سب سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 3803 کی بنیاد پر کیا جانا ہے۔ اس کے ساتھ قابض اسرائیل کی فوج کو نام نہاد ریڈ لائن تک واپس جانا ہوگا تاکہ اس کا کنٹرول غزہ کے کل رقبے کے لگ بھگ 20 فیصد تک محدود ہو جائے اور کسی مستقل قبضے یا الحاق پر مکمل پابندی عائد کی جا سکے۔
اس منصوبے میں مزاحمتی ہتھیاروں کے مسئلے کو نمٹانا اور باقی ماندہ سرنگوں کی تباہی بھی شامل ہے جبکہ جنگ کے بعد کے دور کے لیے ایک بین الاقوامی انتظامی کونسل کے ذریعے نظام حکومت قائم کرنے اور فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت تشکیل دینے کی بات بھی کی گئی ہے تاکہ وہ غزہ کے امور سنبھال سکے۔ منصوبے کا اختتام تعمیر نو کے عمل کے آغاز پر ہوتا ہے جس میں ملبہ اور کھنڈرات ہٹانا شامل ہے تاکہ غزہ کے مظلوم عوام ایک بار پھر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔
