Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

ایران کے معاملے پر امریکی ممکنہ مداخلت، قابض اسرائیل ہائی الرٹ

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے تین باخبر ذرائع نے آج اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ قابض حکام نے ایران میں امریکہ کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی الرٹ کی سطح بلند ترین درجے تک بڑھا دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران میں خراب معاشی حالات کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج جاری ہے۔

یہ صورتحال اس فون کال کے ساتھ سامنے آئی ہے جو گذشتہ شب ہفتہ کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو سے کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس رابطے میں غزہ اور سوریہ کی صورتحال اور ایران میں بڑھتے ہوئے احتجاجات پر بات چیت ہوئی، تاہم امریکی جانب سے گفتگو کی تفصیلات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ایران میں گذشتہ چند دنوں سے حکومت مخالف احتجاج کی سب سے بڑی لہر دیکھی جا رہی ہے، جو گذشتہ برس قابض اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد سے شدت اختیار کر گئی ہے۔ دوسری جانب غزہ میں بھی حالات بدستور کشیدہ ہیں، جہاں اکتوبر/تشرین الاول میں شروع ہونے والی سیز فائر کی ابتدائی مرحلے کے باوجود کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ قابض اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں اور آئندہ مرحلے سے متعلق اختلافات کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

علاقائی تناظر میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق قابض اسرائیل اور سوریہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں پیرس میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے دوران ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت دونوں فریقین کے درمیان سکیورٹی اور تجارتی امور کے لیے رابطہ کاری کا ایک طریقہ کار قائم کیا جائے گا۔

امریکی سطح پر مارکو روبیو نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایرانی عوام کی حمایت کا اظہار کیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ایران پہلے سے کہیں زیادہ آزادی کا متلاشی ہے اور امریکہ ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔

اسی تناظر میں نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر فضائی حملے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران میں وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن اور انٹرنیٹ بندش کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور زیر غور آپشنز میں تہران میں غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

مارکو روبیو اور بنجمن نیتن یاھو کے درمیان ہونے والا رابطہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری ہم آہنگی کی کڑی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے جنوری سنہ 2025ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نیتن یاھو پانچ مرتبہ امریکہ کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے گذشتہ اکتوبر میں قابض اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan