(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے آج اتوار کو علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپوں اور گھروں کی تلاشی کی کارروائیاں کیں، جن کے دوران متعدد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ نابلس شہر کے قدیم علاقے میں مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں۔
بیت لحم گورنری میں قابض فوج نے بلدہ بیت فجار سے پانچ نوجوانوں کو ان کے گھروں پر دھاوا بول کر گرفتار کیا۔ گرفتار ہونے والوں میں عماد محمد ثوابتہ، عاطف محمد ثوابتہ، مجدی ثوابتہ، اسیرِ رہائی یافتہ مراد احمد طقاطقہ اور غنام عبد الرحمن دیرّیہ شامل ہیں۔
اسی دوران شہر کے مغرب میں واقع بلدہ حوسان پر دھاوے کے دوران مزید تین نوجوانوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔
گذشتہ شب ہفتہ کو قابض افواج نے بیت لحم کے جنوب میں بلدہ الخضر پر دھاوا بولا اور البوابة اور حارہ ابو صرہ کے علاقوں میں تعینات رہیں، تاہم گھروں پر چھاپوں یا گرفتاریوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
طولکرم میں قابض افواج نے بلدہ قفین میں گھروں کی تلاشی کے بعد نور کتانہ، عبود کتانہ اور عبد ململ کو گرفتار کر لیا۔ اسی طرح رام اللہ کے مغرب میں بلدہ بیتونیا پر دھاوے کے دوران نوجوان عبد اللہ عطا قرط کو اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔
نابلس میں آج صبح قدیم شہر کے حارہ الیاسمینہ میں قابض اسرائیلی خصوصی فورس کے خفیہ داخلے کے بعد مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ فورس کے بے نقاب ہوتے ہی فلسطینی مزاحمت کاروں نے فائرنگ کر کے ان کا مقابلہ کیا، جس پر قابض فوج نے علاقے میں بھاری فوجی کمک بھیج دی۔
ویڈیو مناظر میں خصوصی فورس کے اہلکاروں کو جھڑپوں کے دباؤ میں پسپا ہوتے دیکھا گیا۔ بعد ازاں قابض افواج نے قدیم شہر سے نوجوان حمیدو زکاری کو گرفتار کر لیا۔
نابلس میں طبی امداد کے ڈائریکٹر غسان حمدان نے بتایا کہ ایک خاندان اس وقت محفوظ رہا جب ان کی گاڑی پر قدیم شہر کے اطراف فائرنگ کی گئی۔
جنوبی الخلیل میں مسافر یطا کے گاؤں سوسیا سے قابض افواج نے ایک شہری کو گرفتار کیا اور اس کی گاڑی ضبط کر لی۔ اس کارروائی کے دوران متعدد گھروں کی تلاشی لی گئی اور ایک شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اسی دوران آبادکاروں نے خربہ ام الخیر میں شہریوں کے گھروں کے قریب اپنے مویشی چھوڑ دیے، جبکہ دیگر آبادکاروں نے خربہ المرکز میں گھس کر اشتعال انگیز گشت کیا۔
میڈیا کارکن اسامہ مخامرہ نے بتایا کہ قابض افواج نے سوسیا پر دھاوا بول کر خضر النواجعہ اور احمد جبر النواجعہ کے گھروں کی تلاشی لی، شہری احمد النواجعہ کو حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ موسیٰ علی النواجعہ کو گرفتار کر کے اس کی گاڑی ضبط کر لی گئی۔
قابض افواج نے طوباس کے جنوب میں واقع الفارعہ کیمپ میں بھی دھاوا بول کر داخلی راستے پر تعیناتی کی اور صوتی بم پھینکے۔
اسی طرح رام اللہ کے شمال مشرق میں کفر مالک، المغیر اور ابو فلاح سمیت متعدد دیہات پر دھاوے کے دوران صوتی بم اور زہریلی گیس کے شیل فائر کیے گئے، تاہم کسی جانی نقصان یا گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔
فلسطینی شہریوں نے بلدہ کے علاقے الخلہ میں آبادکاروں کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا، اس دوران بھی کسی زخمی کی اطلاع نہیں ملی۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ پر قابض اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے بشمول مشرقی القدس میں چھاپوں اور فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
غزہ میں جاری نسل کشی کے ساتھ ساتھ قابض فوج اور آبادکاروں نے مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں بھی اپنے حملے تیز کر دیے، جن کے نتیجے میں اب تک 1105 فلسطینی شہید، تقریباً 11 ہزار زخمی اور 21 ہزار سے زائد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
