Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

غزہ میں بچے موسمی اور غذائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ادارے انروا نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں بچے بدستور نہایت کسمپرسی اور اذیت ناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال قابض اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد کے داخلے پر عائد سخت پابندیوں کے باعث مزید سنگین ہو چکی ہے۔

انروا نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی کے بچوں کو گرمائش غذائیت اور مناسب تحفظ کا احساس ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں امید رکھ سکیں۔

ادارے نے اس جانب توجہ دلائی کہ قابض اسرائیل کی پابندیوں کے باعث غزہ کی پٹی کے باہر رکی ہوئی انسانی امداد کی بچوں کو اشد ضرورت ہے اور یہ امداد نہ پہنچنے کے سبب ان کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

انروا نے واضح کیا کہ دیگر امدادی تنظیموں کی طرح وہ بھی اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھے ہوئے ہے اور امدادی سرگرمیوں کو وسیع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ادارے نے زور دیا کہ انسانی امداد پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔

اسی دن اس سے قبل غزہ کے سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں جاری حالیہ سرد ہواؤں کے طوفانی سلسلے کے باعث بے گھر فلسطینیوں کے ہزاروں خیمے اکھڑ گئے اور شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بحران کو قابض اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی سامان کی آمد پر پابندی اور تعمیر نو کے عمل کو سبوتاژ کرنے کا براہ راست نتیجہ قرار دیا۔

ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی میں شدید سردی کے باعث سات دن کا ایک فلسطینی شیر خوار بچہ جان کی بازی ہار گیا۔ یہ واقعہ ان المناک انسانی حالات کی عکاسی کرتا ہے جن میں بے گھر فلسطینی خستہ حال خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جو بالخصوص موسم سرما میں موسمی اثرات سے بچاؤ کی کم سے کم سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔

یہ صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو گئی ہے جب قابض اسرائیل کی حکام سنہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے نافذ العمل سیز فائر معاہدے میں درج اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل انحراف کر رہے ہیں۔ ان ذمہ داریوں میں سرحدی گزرگاہوں کو کھولنا اور خیموں اور عارضی گھروں کی فراہمی شامل ہے۔

سیز فائر کے باوجود غزہ کی پٹی میں انسانی بحران میں کوئی واضح بہتری دیکھنے میں نہیں آئی کیونکہ قابض اسرائیل اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑتا رہا جبکہ موسمی طوفانوں نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔

یہ سیز فائر اس نسل کش جنگ کے خاتمے کا سبب بنا جس کا آغاز قابض اسرائیل نے 7 اکتوبر سنہ 2023ء کو کیا تھا اور جو دو برس تک جاری رہی۔ اس جنگ کے نتیجے میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جبکہ ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کا 90 فیصد حصہ تباہ ہو گیا جس کی تعمیر نو کی لاگت اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 70 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan