Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

غزہ کا انتظام فلسطینی قیادت کو دیا جائے، جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر تیار ہیں: حماس

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سینئر رہنما باسم نعیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حماس غزہ پٹی میں جنگ بندی کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے ساتھ مثبت اور تعمیری انداز میں آگے بڑھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے باسم نعیم نے کہا کہ حماس نے ثالثوں کو اس مرحلے کی تمام شقوں کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف پہنچا دیا ہے، جس میں سرفہرست غزہ پٹی کے مکمل انتظام کے لیے ایک خالص فلسطینی انتظامی ڈھانچے کی تشکیل، تمام گزرگاہوں کو دونوں اطراف سے کھولنا اور حکومتی منظرنامے سے حماس کی مکمل علیحدگی شامل ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حماس نے جنگ بندی کے معاہدے میں شامل تمام نکات پر مکمل عمل درآمد کیا ہے، جس کی گواہی خود ثالث اور حتیٰ کہ امریکی فریق بھی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس نہ تو سیاسی عمل میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اور نہ ہی انسانی اقدامات کی راہ میں، بلکہ وہ معاہدے کو مستحکم کرنے اور اسے اگلے مرحلے تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ فلسطینی عوام کے مفاد کا تحفظ ہو اور ان کی مسلسل اذیتوں میں کمی آ سکے۔

باسم نعیم نے نشاندہی کی کہ منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ کی اصل وجہ قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کا اپنی ذمہ داریوں سے دانستہ انحراف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل فوجی کشیدگی دراصل معاہدے کو سبوتاژ کرنے اور دوبارہ جنگ کی طرف لوٹنے کی کوشش ہے، جو نیتن یاھو کی اس ناکامی کے بعد اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے کی ایک چال ہے کہ وہ اپنے کسی بھی اعلان کردہ مقصد کو حاصل نہیں کر سکا۔

انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے باوجود غزہ پٹی میں شہریوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا، جس کے نتیجے میں گذشتہ عرصے کے دوران درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ باسم نعیم نے کہا کہ اس نوعیت کی جارحیت امریکی سرپرستی یا کم از کم امریکی منظوری کے بغیر ممکن نہیں، جو امریکی ضامن کے کردار اور اس کی ذمہ داریوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں جاری شدید انسانی بحران، امداد کی آمد پر پابندیاں اور گزرگاہوں کی بندش معاہدے کو مکمل طور پر ناکام بنانے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات کا برقرار رہنا نہ تو خطے میں امن لا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا استحکام پیدا کر سکتا ہے۔

حماس کے اس رہنما نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ مرحلہ ثالثوں اور بین الاقوامی ضمانت دینے والے فریقوں سے سنجیدہ اور عملی کردار کا تقاضا کرتا ہے تاکہ معاہدے کے تمام مراحل پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قابض اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں کے تسلسل کی صورت میں کشیدگی کے دائرے میں مزید پھیلاؤ کا خدشہ بدستور موجود ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan