(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکز الميزان برائے انسانی حقوق نے غزہ پٹی پر قابض اسرائیل کی جانب سے جارحیت میں خطرناک اضافے کی شدید مذمت کی ہے۔ مرکز نے بتایا کہ گذشتہ شب جمعرات ہونے والی تازہ بمباری میں 14 فلسطینی شہید اور 17 زخمی ہوئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ قابض اسرائیل نے گھروں خیموں اور بے گھر افراد کے اجتماعات کو نشانہ بنا کر پورے علاقے میں خوف اور ہراس کی فضا پیدا کر دی۔
مرکز نے جمعے کے روز جاری اپنے بیان میں وضاحت کی کہ فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری نے غزہ پٹی کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں مواصی خان یونس میں الفرا خاندان کے خیمے پر بمباری شامل ہے جہاں چار معصوم بچے شہید ہوئے۔ اسی طرح غزہ شہر کے الزیتون محلے میں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے ایک بیرک اور مکان پر حملے میں چار شہری شہید ہو گئے۔ دیر البلح میں بے گھر افراد کے ایک خیمے پر حملے میں ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ جبالیہ مغازی کیمپ ساحلی علاقہ اور خان یونس میں بھی فضائی حملے اور ڈرون طیاروں سے فائرنگ کی گئی۔
مرکز الميزان نے زور دے کر کہا کہ یہ حملے غزہ کے باشندوں کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ کا تسلسل ہیں۔ مرکز کے مطابق قابض اسرائیل شرم الشیخ میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جہاں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے گزرگاہوں کی بندش برقرار ہے اور انسانی امداد کی ترسیل روکی جا رہی ہے جس سے ایک بے مثال انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔
مرکز نے رفح سے تعلق رکھنے والی ایک بے گھر خاتون کی گواہی بھی نقل کی جو اس وقت مواصی خان یونس میں مقیم ہے۔ خاتون نے بتایا کہ اس کی بھتیجی نو سالہ بچی جنت ایک ڈرون طیارے کی فائرنگ سے خیمے کے اندر زخمی ہو گئی جسے علاج کے لیے ناصر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد دس اکتوبر 2025ء سے اب تک 439 فلسطینی شہید اور 1223 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب توپ خانے کی گولہ باری ،فوجی دراندازی اور گھروں کی مسماری کا سلسلہ بدستور جاری ہے خصوصاً الزیتون الشجاعیہ اور غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں۔
مرکز الميزان نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل انسانی امداد کی ترسیل میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ جنگ بندی کے بعد اب تک صرف تقریباً 23 ہزار امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی گئی جو اقوام متحدہ کے طے کردہ کم از کم یومیہ معیار سے کہیں کم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 37 مقامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے اجازت نامے معطل یا منسوخ کر دیے گئے جسے مرکز نے امداد کی رسائی محدود کرنے اور عوامی مصائب بڑھانے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔
مرکز نے موسم سرما کی آمد کے ساتھ انسانی صورتحال میں شدید بگاڑ کی طرف بھی توجہ دلائی۔ حالیہ موسمی دباؤ کے باعث پہلے سے متاثرہ درجنوں عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں جس کے نتیجے میں بے گھر افراد میں اموات اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔ خیموں میں رہنے والے خاندان بنیادی تحفظ اور حرارت کے فقدان کے باعث انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مرکز الميزان نے عالمی برادری بالخصوص جنگ بندی معاہدے کی ضامن ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ قابض اسرائیلی خلاف ورزیاں روکی جا سکیں۔ مرکز نے شہریوں کے تحفظ ،گزرگاہوں کی مکمل اور مستقل بحالی، امدادی طبی اور رہائشی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل رفح گزرگاہ کو زخمیوں مریضوں اور شہریوں کی آمد و رفت کے لیے کھولنے اور غزہ میں شہریوں کے خلاف کیے گئے جرائم کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے پر زور دیا۔
