Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

نسل کشی کی جنگ جاری، غزہ میں سیزفائر کی 1193 خلاف ورزیاں

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ پٹی میں سرکاری میڈیا آفس نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل نے 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر کے فیصلے کے نفاذ کے بعد سے جمعہ تک معاہدے کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں جاری رکھیں، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح پامالی، سیز فائر کی روح کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے اور اس سے منسلک انسانی پروٹوکول کی دفعات کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

دفتر نے جاری بیان میں واضح کیا کہ متعلقہ سرکاری اداروں نے 90 دنوں کے دوران معاہدے کی 1193 خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں، جن میں 384 واقعات براہ راست شہریوں پر فائرنگ کے، 66 مرتبہ فوجی گاڑیوں کا رہائشی علاقوں میں دراندازی کرنا، 551 بار نہتے شہریوں اور ان کے گھروں پر بمباری اور حملے، جب کہ 192 واقعات گھروں، اداروں اور شہری عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور مسمار کرنے کے شامل ہیں۔

بیان کے مطابق ان منظم خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 484 شہری شہید ہوئے، 1206 دیگر زخمی ہوئے، جب کہ قابض افواج نے 50 افراد کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا۔

سرکاری میڈیا آفس نے بتایا کہ غزہ کی پٹی ایک سست رفتار اجتماعی نسل کشی کا سامنا کر رہی ہے، کیونکہ قابض اسرائیل معاہدے اور انسانی پروٹوکول میں درج اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل انحراف کر رہا ہے۔ طے شدہ امدادی مقدار کا کم از کم حصہ بھی پورا نہیں کیا گیا، چنانچہ 90 دنوں کے دوران 54,000 ٹرکوں میں سے محض 23,019 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے۔ یومیہ اوسط صرف 255 ٹرک رہی، حالانکہ معاہدے کے مطابق 600 ٹرک روزانہ داخل ہونا تھے، یوں عمل درآمد کی شرح 43 فیصد سے بھی کم رہی۔

دفتر نے زور دیا کہ اس صورت حال کے باعث خوراک، ادویات، پانی اور ایندھن کی شدید قلت برقرار ہے، جس نے غزہ پٹی میں انسانی المیے کی شدت کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

بیان میں نشاندہی کی گئی کہ قابض اسرائیل جن غذائی اشیا کو داخلے کی اجازت دیتا ہے، ان کی غذائی قدر انتہائی کم ہے، جب کہ غذائیت سے بھرپور اور بنیادی خوراکی مواد کے داخلے پر پابندی برقرار ہے۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض اسرائیل دانستہ طور پر بھوک اور پیاس کو ہتھیار بنانے کی منظم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

دفتر نے بتایا کہ اسی مدت میں غزہ پٹی میں داخل ہونے والی ایندھن کی ترسیلات محض 539 ٹرکوں تک محدود رہیں، حالانکہ معاہدے کے مطابق 4,500 ٹرک داخل ہونا تھے۔ یومیہ اوسط صرف پانچ ٹرک رہی، جب کہ مقررہ تعداد 50 ٹرک تھی، یوں عمل درآمد کی شرح محض 11 فیصد کے قریب رہی۔ اس کے نتیجے میں ہسپتال، بیکریاں، پانی اور نکاسی آب کے مراکز تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئے اور شہری آبادی کی مشکلات دوگنی ہو گئیں۔

سرکاری میڈیا آفس نے غزہ پٹی میں انسانی بحران کے بے مثال اور شدید تر ہونے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل سرحدی گزرگاہیں بند رکھے ہوئے ہے اور عارضی گھروں، کیرفینز اور رہائشی سامان بشمول خیموں اور پلاسٹک شیٹوں کے داخلے کو روک رہا ہے، جو معاہدے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان ظالمانہ پالیسیوں نے، موسم سرما کے آغاز پر آنے والے موسمی دباؤ کے ساتھ مل کر، پہلے سے تباہ شدہ اور بمباری سے متاثرہ 50 سے زائد گھروں اور عمارتوں کو منہدم کر دیا۔ ان عمارتوں کے گرنے سے درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوئے، جو اپنے اصل گھروں کی تباہی کے بعد کسی محفوظ متبادل کے بغیر انہی ڈھانچوں میں پناہ لینے پر مجبور تھے۔

دفتر نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ بے گھر افراد کے خیموں میں شدید سردی کے باعث اموات ریکارڈ کی گئیں، جب کہ 127,000 سے زائد خیمے ناکارہ ہو چکے ہیں اور 15 لاکھ سے زائد بے گھر افراد کو کم از کم تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ غزہ پٹی شدید سردی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے باعث اگر یہ دانستہ غفلت جاری رہی تو بے گھر افراد میں مزید اموات کا خدشہ ہے۔

سرکاری میڈیا آفس نے واضح کیا کہ ان خلاف ورزیوں اور تجاوزات کا تسلسل سیز فائر پر ایک خطرناک حملہ ہے اور ایسی انسانی صورت حال مسلط کرنے کی کوشش ہے جو جبر، بھوک اور بلیک میلنگ پر مبنی ہو۔

بیان میں قابض اسرائیل کو انسانی صورت حال کی مسلسل بگڑتی کیفیت، ضائع ہونے والی جانوں اور تباہ ہونے والی املاک کی مکمل ذمہ داری کا حامل ٹھہرایا گیا، حالانکہ یہ وہ مدت ہے جس میں مکمل اور پائیدار سیز فائر نافذ ہونا چاہیے تھا۔

آخر میں سرکاری میڈیا آفس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، معاہدے کے ضامن ممالک، ثالثوں، عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھائیں، قابض اسرائیل کو بلا کسی کمی کے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کریں، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں، انسانی امداد اور ایندھن کی فوری اور محفوظ ترسیل کو ممکن بنائیں اور معاہدے کے مطابق عارضی گھروں، کیرفینز اور رہائشی سامان کے داخلے کی اجازت دیں، تاکہ غزہ پٹی میں بڑھتے ہوئے انسانی المیے کا تدارک کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan