(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر قابض صہیونی دشمن ریاست کی مسلسل بمباری اور چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں آٹھ فلسطینیوں کی شہادت جن میں اکثریت بچوں کی ہے ایک سنگین مجرمانہ اشتعال انگیزی ہے۔ یہ سیز فائر کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کا مقصد حالات کو الجھانا، معاہدے کی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنا اور دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت کو سبوتاژ کرنا ہے۔
حماس نے ثالثوں اور سیز فائر معاہدے کے ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں کی واضح مذمت کریں جن کی نگرانی جنگی مجرم بنجمن نیتن یاھو بے بنیاد اور گھڑے ہوئے بہانوں کے تحت کر رہا ہے۔
حماس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قابض اسرائیل پر عملی دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ ان خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکے اور معاہدے کی تمام شقوں پر عمل کرے جن میں رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنا، امدادی سامان اور رہائشی ضروریات کی فراہمی اور فوری طور پر دوسرے مرحلے میں داخلہ شامل ہے۔
غزہ کی پٹی میں جمعرات کے روز قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کے نازک معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں آٹھ شہری شہید ہو گئے۔ ان خلاف ورزیوں میں فضائی بمباری توپ خانے کی گولہ باری اور عسکری گاڑیوں سے فائرنگ شامل ہے جو محصور علاقے کے مختلف حصوں میں کی گئی۔
ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ جمعرات کی شام خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی کے علاقے العطار پر قابض اسرائیل کے فضائی حملے کے نتیجے میں کمال عبدالرحمن محمد عواد شہید ہو گئے جبکہ تین افراد زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
ایک اور مقامی ذریعے کے مطابق شمالی غزہ میں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے ابو حسین سکول پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں شہری ابراہیم صبح شہید ہو گئے۔
طبی ذرائع نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں خان یونس کے مغرب میں المواصی کے علاقے میں شارع پانچ پر بے گھر افراد کے خیمے میں قابض اسرائیل کے خودکش ڈرون کے دھماکے سے چار شہری شہید ہو گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
اسی دوران جمعرات کے روز خان یونس کے مشرق میں بنی سہیلہ چوک کے قریب قابض اسرائیل کے ڈرون کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید ہو گیا۔
اس سے قبل شمالی غزہ میں جبالیا کیمپ کے مغرب میں واقع الفالوجا علاقے میں قابض اسرائیل کی عسکری گاڑیوں کی فائرنگ سے گیارہ سالہ بچی ہمسہ نضال حوسو شہید ہو گئی۔
