مغربی نابلس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شمال مغربی نابلس کے نزدیک گاؤں دیر شرف کے قریب واقع الجنیدی فیکٹری اور اس کے اطراف میں صہیونی آبادکاروں کے حملے کے نتیجے میں دو معمر فلسطینی زخمی ہو گئے، جبکہ حملہ آوروں نے فلسطینیوں کی متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی اور علاقے میں املاک کو نشانہ بنایا۔
مقامی ذرائع کے مطابق صہیونی آبادکاروں نے قابض اسرائیلی فوج کی سکیورٹی میں علاقے پر دھاوا بولا اور فیکٹری کے اطراف موجود دو معمر فلسطینیوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے، جبکہ آبادکاروں نے کئی فلسطینی گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور اہل علاقہ میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
یہ حملہ مغربی کنارے کے شمالی علاقوں میں فلسطینی دیہاتوں پر صہیونی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، بالخصوص نابلس کے اطراف جہاں معاشی تنصیبات اور زرعی اراضی پر بار بار حملے کیے جا رہے ہیں، جو اکثر قابض اسرائیل کی فوج کی براہ راست سکیورٹی یا سرپرستی میں انجام پاتے ہیں۔
تیرہ نومبر اس سے قبل جنیدی فیکٹری اور گاؤں دیر شرف کے اطراف اسی نوعیت کا حملہ کیا گیا تھا، جب صہیونی آبادکاروں نے علاقے میں گھس کر فلسطینی املاک پر حملہ کیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔ اس حملے کو فیکٹری میں نصب نگرانی کیمروں نے ریکارڈ کیا تھا، جبکہ اس وقت بھی فلسطینیوں کے زخمی ہونے اور قابض اسرائیلی فوج کی کھلی ملی بھگت سامنے آئی تھی، جس نے آبادکاروں کو کسی کارروائی کے بغیر محفوظ راستہ فراہم کیا۔
انسانی حقوق کے حلقوں کی نگرانی کے مطابق ایک ہی علاقے میں ان حملوں کا بار بار ہونا اس منظم منصوبے کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد فلسطینی معاشی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ہے، خاص طور پر ان فیکٹریوں اور تنصیبات کو جو صہیونی آبادکاری سڑکوں کے قریب واقع ہیں، تاکہ ایک نیا جبری سکیورٹی ماحول مسلط کیا جا سکے اور فلسطینیوں کو اپنی زمینوں سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔
مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے حملے میں ملوث کسی بھی صہیونی آبادکار کو گرفتار نہیں کیا، جبکہ علاقے کو فلسطینیوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ یہ صورتحال قابض اسرائیلی حکومت پر عائد ان الزامات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ وہ ان سفاکانہ حملوں کو سیاسی اور سکیورٹی تحفظ فراہم کر رہی ہے، خاص طور پر غزہ پر جنگ مسلط کیے جانے کے بعد صہیونی آبادکاروں کے حملوں میں بے مثال اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
