(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گلوبل صمود فلوٹیلا نے سرکاری طور پر مصری حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ زمینی قافلے کو جنوبی غزہ میں رفح گذرگاہ کے راستے داخل ہونے کی اجازت دے۔
فلوٹیلا نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ شدید مشکل حالات کا سامنا کر رہا ہے، خاص طور پر سردیوں میں انسانی بحران مکمل طور پر آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ یہ بحران سراسر”انسانی پیدا شدہ” ہے، کیونکہ امداد پر مسلسل پابندیاں عائد ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ درخواست میں بنیادی ضروریات جیسے خوراک، طبی سامان، رہائش کی اشیاء اور دیگر امدادی اشیاء کی کمی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فلوٹیلا اس قافلے کو مصر کے ساتھ موجودہ سرحدی راستے سے محفوظ طور پر داخل کروانا چاہتا ہے اور اس دوران متعلقہ مصری حکام کے ساتھ سکیورٹی، تفتیش اور لاجسٹک معاملات پر مکمل ہم آہنگی کرے گا تاکہ امداد رفح گذرگاہ تک پہنچائی جا سکے۔
قافلے کا بنیادی مقصد فوری انسانی امداد فراہم کرنا ہے، جس میں خوراک، دوائیں، کمبل اور دیگر بنیادی ضروریات شامل ہیں، تاکہ وہ غزہ کی مقامی کمیونٹیز تک پہنچائی جا سکیں جو مسلسل انسانی بحران کا شکار ہیں۔ فلوٹیلا نے واضح کیا کہ یہ مشن مکمل طور پر انسانی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کے تشدد کا عنصر شامل نہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ سنہ 2026ء کے موسم بہار میں بحری مشن کی تیاری کر رہا ہے تاکہ غزہ پر عائد محاصرے کو توڑا جا سکے، جس میں 100 سے زائد کشتیوں اور 3000 سے زیادہ شرکاء دنیا کے 100 سے زائد ممالک سے حصہ لیں گے۔ یہ گزشتہ مشن سے تقریباً دوگنا حجم رکھتا ہے اور فلسطین کی حمایت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا مربوط شہری بحری اقدام ہے۔
تاہم مصر نے سنہ 2024ء کے مئی سے رفح گذرگاہ کو بند کر رکھا ہے، جب قابض اسرائیل نے رفح شہر میں داخل ہو کر گذرگاہ پر قبضہ کیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ اکتوبر 2025ء میں گلوبل صمود فلوٹیلا کے بحری مشن کے دوران بحری جہازوں پر دھاوا بولا اور انہیں اسدود بندرگاہ لے جایا۔
