تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یہ مورخہ تین جنوری سنہ 2020ء کی بات ہے کہ جب امریکی حکومت نے ہمیشہ کی طرح دنیا کے خود مختار ممالک کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کو آگے بڑھایا۔ اس مرتبہ عراق کی خود مختاری پر شب خون مارا گیا اور ساتھ ساتھ ایران کے ایک فوجی جرنیل قاسم سلیمانی کو بغداد ایئرپورٹ پر اس وقت میزائلوں سے نشانہ بنایا جب وہ سرکاری دورے پر تھے۔ان کے ہمراہ عراق کی مزاحمتی فورسز کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی شہید ہوئے۔ امریکی حکومت اور خاص طور پر اس وقت کے صدر ٹرمپ نے اس واقعہ کو ہمیشہ کی طرح امریکہ کی کامیابی قرار دینا شروع کیا جیسا کہ امریکیوں نے ہیروشیما اور ناگا ساکی میں ایٹم بم گرانے کے بعد ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل کیا تھا، اسی طرح افغانستان میں بیس سال تک معصوم انسانوں کا قتل عام کیا، پھر عراق میں یہ قتل عام جاری رہا، اس سے قبل ویتنام اور نہ جانے کتنی ہی اور ایسی داستانیں ہیں جہاں امریکی حکومت نے ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا اور اس قتل عام کو ہمیشہ امریکہ کی کامیابی قرار دیا۔یہ سب باتیں دلیل ہیں کہ امریکہ ہی ہے کہ جو ہمیشہ دنیا بھر میں دہشت گردی کو پروان چڑھاتا ہے اور انسانی حقوق سمیت انسانیت کی دھجیاں اڑاتا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ نے فخریہ انداز میں اقرار کیا کہ امریکہ نے اسرائیل کو 21ارب ڈالر کا اسلحہ دیا تھا جو نیتن یاہو نے بہترین استعمال کیا یعنی فلسطینیوں کی نسل کشی کی۔اسی طرح یہی ٹرمپ ماضی میں اعتراف کر چکا ہے کہ امریکہ نے داعش کی مدد کی اور شام و عراق میں معصوم انسانوں کا قتل عام کرنے کے لئے سات ٹریلین ڈالر داعش کو دئیے۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ دہشت گردی کی جڑ ہے۔
امریکہ نے اگر چہ جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر دیا لیکن آج اس قتل کو چھ سال مکمل ہو رہے ہیں لیکن سوال یہی اٹھ رہاہے کہ کیا واقعی امریکہ نے اپنے متعین کردہ اہداف کو جنرل قاسم سلیمانی کے قتل سے حاصل کیا ہے ؟ یا پھر ایسا تو نہیں کہ زندہ قاسم سلیمانی سے زیادہ شہید قاسم سلیمانی امریکہ اور ان کے حواریوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل کی راہ میں آج بھی رکاوٹ ہے۔اس بات کا واضح سا جواب تو یہی ہے کہ نظریہ کبھی نہیں مرتا بلکہ جسم مرتے ہیں نظریہ زندہ رہتا ہے۔ قاسم سلیمانی دیکھنے میں تو ایک انسان تھا لیکن حقیقت میں وہ ایک نظریہ تھا۔ایسا نظریہ جو آج بھی دنیابھر کے جوانوں کے اذہان اور دل پر نقش ہو رہاہے۔ آج شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کو چھ برس کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن پوری دنیا میں حریت پسند 03 جنوری کے دن کو اب ’’عالمی یوم مزاحمت‘‘ کے عنوان سے مناتے ہیں۔ یہ دن صرف ایران اور عراق میں ہی نہیںمنایا جاتا بلکہ دنیا بھر کے مسلمان و عرب ممالک سمیت فلسطین اور خاص طور پر امریکی و یورپی ممالک کے نوجوان بھی مناتے ہیں۔یہی قاسم سلیمانی کی کامیابی ہے کہ وہ قتل ہونے کے بعد بھی دنیا بھر کے لوگوں کے دل میں زندہ ہے اور دل پر راج کرتا ہے۔جبکہ امریکی صدر ٹرمپ آج بھی دنیا بھر میں منفور اور تحقیر کا سزاوار ہے۔
03جنوری عالمی یوم مزاحمت کے عنوان سے منایا جانے والا دن درا صل دنیا بھرکی اُن اقوام اور تحریکوں کی جدوجہد کی یاد دہانی ہے جو ظلم، استعمار اور جبر کے خلاف حق، آزادی اور خودمختاری کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔ خاص طور پر مظلوم فلسطینی قوم ۔قاسم سلیمانی وہ واحد شخصیت ہے کہ جس نے فلسطینیوں کے ہاتھوں کو مسلح کیا۔فلسطین کے جوانوں کو جنگی تجربات اور ٹیکنالوجی منتقل کی تا کہ وہ اپنا دفاع کر سکیں اور آج پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح فلسطینیوں نے اپنا دفاع کیا اور دنیا کی بڑی طاقتوں کو اپنے سامنے سر نگوں کیا ہے۔ یہ سب کچھ قاسم سلیمانی کے اس خلوص اور جدوجہد کا صلہ ہے جو انہوںنے فلسطین کے لئے انجام دیا۔اس دن کو منانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف مزاحمت کی تاریخ کو زندہ رکھا جائے بلکہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا بھر میں اُن شخصیات کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جائے کہ جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مظلوم اقوام کو حوصلہ اور سمت عطا کی۔ انہی عظیم شخصیات میں ایک نمایاں نام شہید قاسم سلیمانی کا ہے۔ان کے راستے پر چلنے والے آج بھی فلسطین و قدس کی خاطر فلسطین، غزہ، لبنان، یمن، عراق و ایران اور دیگر ممالک میں قربانیاں دے رہے ہیں۔آج کا دن ان تمام شہداء کو سلام عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔
عالمی یومِ مزاحمت کے تناظر میں شہید قاسم سلیمانی کی شخصیت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مزاحمت صرف ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں بلکہ یہ عزم، استقلال، قربانی اور حق پر ثابت قدمی کا راستہ ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت خالص اور مقصد عادلانہ ہو تو بڑی سے بڑی طاقت بھی عوامی ارادے کو شکست نہیں دے سکتی۔شہید قاسم سلیمانی صرف ایک عسکری کمانڈر نہیں تھے بلکہ وہ ایک فکری، نظریاتی اور عملی مزاحمت کی علامت تھے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں استعماری طاقتوں اور صہیونی منصوبوں کے خلاف مزاحمتی محاذ کو منظم کیا اور مظلوم اقوام خصوصاً فلسطین، لبنان، عراق اور شام کے عوام کی حمایت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کی قیادت میں مزاحمت ایک محدود جغرافیے سے نکل کر ایک علاقائی اور فکری تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔یہی شکل آج بھی فلسطین ، لبنان، یمن، عراق اوردنیا کے دیگر ممالک میں کسی نہ کسی طرح زندہ و بیدار نظر آتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت بذاتِ خود عالمی مزاحمت کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ان کی شہادت نے مزاحمتی تحریکوں کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا اور دنیا بھر میں یہ شعور اجاگر کیا کہ ظلم کے خلاف جدوجہد افراد کی موت سے ختم نہیں ہوتی بلکہ نظریات زندہ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا نام مزاحمت، غیرت اور استقلال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔عالمی یومِ مزاحمت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی جیسے قائدین کی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔ ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری ورثہ ہے جو انہیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونے، مظلوموں کا ساتھ دینے اور عالمی انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی اور عالمی یومِ مزاحمت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہ دن ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ہر اُس نظام کے خلاف آواز بلند کریں گے جو جبر، استحصال اور ناانصافی پر قائم ہو۔