(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کے وسط میں قائم ایک خیمے میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کا بچہ شہید ہو گئے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہےجو قابض اسرائیل کی مسلط کردہ نسل کشی کی کے بعد فلسطینیوں کے عارضی رہائش کے نازک حالات کو اجاگر کرتا ہے۔
غزہ کے سول ڈیفنس ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ آگ یرموک علاقے میں واقع ایک خیمے میں لگی، جہاں بے گھر خاندان رہائش پذیر تھے۔ ان کی ٹیم نے ماں اور اس کے بچے کے لاشیں نکالیں جبکہ ایک شہری کو شدید جلنے کے زخموں کے ساتھ بچایا گیا۔
سول ڈیفنس نے مزید کہا کہ متعلقہ حکام ابھی بھی واقعہ کی تفصیلات اور اس کے اسباب کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یہ سانحہ اس انسانی المیے کے دوران پیش آیا ہے، جس کا سامنا سینکڑوں بے گھر فلسطینی کر رہے ہیں، جو قابض اسرائیل کے تباہ کن حملوں کے بعد اپنے مکانات کھو چکے یا ان کے مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ زیادہ تر خیمے بنیادی حفاظتی معیار سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے وہ آگ اور حادثات کے لیے انتہائی حساس ہیں۔
گذشتہ ہفتوں میں شدید بارش اور زوردار ہواؤں نے پہلے ہی تباہ شدہ مکانات کو مزید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں شہریوں کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
موسمی حالات نے بے گھر خاندانوں کے خیموں کو بھی شدید نقصان پہنچایا، پانی نے بعض خیمے بہا دیے اور دیگر خیمے زیر آب آ گئے، جس سے پورے خاندان کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتوں میں موسم کی شدت کی وجہ سے مکانات کے انہدام کے شکار افراد کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے۔
انسانی حقوق اور امدادی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ غیر محفوظ خیموں میں رہائش اور سردیوں کے آغاز کے ساتھ شہریوں کی جان پر خطرات بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے، جبکہ دوبارہ تعمیر یا محفوظ رہائش کی کوئی حقیقی کوشش موجود نہیں۔
