Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

نئے سال پر غزہ کے بچوں کی عالمی برادری سے اپیل

غزہ ۔(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں نئے سال کی رات بچوں کے ننھے ہاتھوں میں اٹھنے والی تختیاں محض عارضی نعرے نہیں تھیں بلکہ غزہ کے بچوں کی جانب سے دنیا کے ضمیر کے نام ایک براہ راست انسانی پیغام تھا کہ وہ بیدار ہو اور حرکت میں آئے۔ جب انہوں نے لکھا غزہ زندگی کا حق دار ہے تو وہ اپنے سب سے بنیادی حق، یعنی سکیورٹی اور بقا کا مطالبہ کر رہے تھے، اور جب انہوں نے کہا غزہ کے لیے ایسا فرح تخلیق کرو جو اسے زیب دے تو وہ اس حق کے لیے دہائی دے رہے تھے کہ انہیں بھی ایک معمول کا، محفوظ اور بے خوف بچپن نصیب ہو جو خیموں سے جڑی ہو اور نہ ہی دہشت سے آشنا ہو۔

غزہ پکار رہا ہے اور اس کی ضرورت انتظار نہیں کرتی جیسے الفاظ ایک فوری انتباہ بن کر سامنے آئے کہ درد مزید خاموشی برداشت نہیں کر سکتا، جب کہ غزہ کو بچاؤ کی پکار نے اس المیے کے حجم کو سمیٹ دیا جسے یہ بچے روز جیتے ہیں۔ اہل غزہ فرح کے مستحق ہیں کہہ کر بچوں نے دنیا کو ایک بھولی بسری انسانی حقیقت یاد دلائی کہ خوشی کوئی احسان نہیں بلکہ حق ہے، سادہ تختیوں پر لکھی یہ ننھی تحریریں دراصل ایک ایسے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی آخری کوشش ہیں جو غزہ اور اس کے بچوں کی نصرت میں بہت تاخیر کر چکا ہے۔

ہوا سے کمزور مگر جنگ سے طاقتور شمعیں

درد اور کرب کی تفصیلات میں غزہ کی ایک سرد رات جب فضا ملبے کی بو سے بوجھل تھی، الشاطی کیمپ میں بوسیدہ خیموں کے سامنے ننھے بچے کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں شمعیں تھیں جو ہوا سے تو کمزور تھیں مگر جنگ سے زیادہ طاقتور اور نئے سال کے آغاز کے ساتھ وہ ایک ہی پیغام دہرا رہے تھے، غزہ زندگی کا حق دار ہے۔

شہر کے مغرب میں واقع الشاطی کیمپ میں لی گئی تصاویر محض عارضی مناظر نہیں تھیں بلکہ دو برس سے جاری محرومی اور جبری بے دخلی کی خاموش شہادتیں تھیں۔ ہلکے کپڑوں میں ملبوس بچے، ٹھنڈی زمین پر جمی ان کی ننھی ایڑیاں اور نظریں ایک چھوٹی سی لو پر مرکوز، گویا وہ امید کے آخری ذرے کو تھامے ہوئے ہوں۔

فرح کی واپسی کا مطالبہ

اس کھیل کے کلب کے کھنڈرات پر نصب خیموں کے درمیان جسے بمباری نے تباہ کر دیا تھا، آدھی رات کو بچے ایک علامتی احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں، کتبے تھے جن پر بچوں کی سادہ تحریر میں مگر نہایت بھاری معانی رقم تھے۔ یہ کتبے فرح کا مطالبہ کر رہے تھے،، زندگی کی دہائی دے رہی تھیں اور ایک ایسی دنیا کے منہ پر چیخ رہی تھیں جو ان کے المیے کو دیکھنے کی عادی ہو چکی ہے مگر رکنے کو تیار نہیں۔

جب گھڑی کی سوئیاں بارہ کے قریب پہنچیں تو شمعیں روشن کی گئیں۔ ننھے ہاتھ لرزے، صرف خوف سے نہیں بلکہ اس سردی سے بھی جو ہر رات ان کا مقدر بنتی ہے، اس کے باوجود مدھم مسکراہٹیں اندھیرے میں راستہ بنانے کی کوشش کرتی رہیں۔

خیمے کے بجائے سکول

ایک بچے نے شمع کو تکتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا کہ وہ ایسا سال چاہتا ہے جس میں وہ دھماکوں کی آواز پر نہ سوئے، خیمے کے بجائے سکول لوٹے اور ایک ایسا عام دن جئے جو دنیا کے باقی بچوں کے دنوں جیسا ہو۔

ایک اور بچہ جس کا نام جانے بغیر اور ناموں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے جب صہیونی سفاکیت پر مبنی نسل کشی ہو جو پتھر اور انسان میں فرق نہ کرے، اس نے کہا کہ وہ وقت سے پہلے بڑا ہو گیا ہے۔ جنگ نے اس سے کھیل اور ہنسی چھین لی، مگر وہ اس احتجاج میں اس لیے آیا کہ کہہ سکے ہم اب بھی یہاں ہیں، ہم اب بھی خواب دیکھ سکتے ہیں، ان سب مناظر کے باوجود جو ہم نے دیکھے۔

ایسا گرم گھر جو بارش میں نہ بھیگے

ایک گوشے میں ایک بچی مضبوطی سے اپنی شمع تھامے کھڑی تھی۔ اس نے کہا اس کی واحد خواہش یہ ہے کہ وہ ایک ایسے گرم گھر کو لوٹ جائے جسے بارش نہ بھگوتی ہو اور خوف اسے نیند سے نہ جگاتا ہو۔ اس نے کہا خیمہ نہ گھر جیسا ہوتا ہے اور نہ ہی بچپن جیسا۔

یہ شمعیں کسی جشن کا اعلان نہیں تھیں بلکہ انسانی مزاحمت کا ایک عمل تھیں، اس جگہ نئے سال کی تعریف ازسرنو کرنے کی کوشش جہاں عرصہ دراز سے صرف فضائی حملوں کی الٹی گنتی جانی جاتی ہے۔ جہاں دنیا تحفے بانٹتی ہے، وہاں غزہ کے بچے خیمے، سردی اور اضطراب بانٹتے ہیں۔

یہ سرگرمی مقامی کارکنوں نے منعقد کی تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ غزہ کے بچے، ان پر مسلط تمام مظالم کے باوجود، آج بھی کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایک صاف پیغام دنیا تک پہنچا سکتے ہیں، ہم یہاں ہیں، ہمیں زندگی سے محبت ہے اور ہم اس کے مستحق ہیں۔

بچے نہیں بھولتے

بڑے مر جاتے ہیں اور بچے نہیں بھولتے، یہ بات مغربی غزہ شہر میں واقع الشاطی کیمپ کی کمیٹی کے سربراہ محمد ماضی نے نئے سال کے موقع پر بچوں کے احتجاج کے پیغام کا خلاصہ کرتے ہوئے کہی۔

کیمپ کی اس کڑی رات میں شمعوں نے اندھیرے کو مٹایا نہیں مگر اسے بے نقاب ضرور کر دیا۔انہوں نے دکھا دیا کہ ان تصاویر کے پیچھے ننھے چہرے ہیں جو کم سفاک سال کے منتظر ہیں، ایسی زمین کے خواہاں ہیں جس پر بمباری نہ ہو، ایسے بچپن کے طلب گار ہیں جو لوٹا نہ جائے اور ایسے سویرا کے امیدوار ہیں جو واقعی زندگی جیسا ہو۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan